• معاملات >> بیع و تجارت

    سوال نمبر: 605403

    عنوان:

    مارکیٹ ریٹ سے كئی گنا زیادہ قیمت میں بیچنا؟

    سوال:

    حضرت، عاجز کو یہ اشکال ہے کہ مان لیں کہ کسی چیز کی قیمت بازار میں ۱۰۰روپے سے زیادہ نہ ہو تو کیا اسے اپنے منشا کے مطابق ۱۰۰۰روپیہ میں بیج سکتے ہیں؟ جب کہ اس میں کسی قسم کا دھوکہ شامل نہ ہو؟ کیا یہ خیر عقلاقی عمل نہ ہوگا؟ ان باتوں کو سامنے رکھتے ہوئے کیا اس طریقہ کار سے کمایٴی ہویٴی رقم حلال ہو گی؟ لہذا آپ اس معاملے میں رہنمائی فرمائیں۔

    جواب نمبر: 605403

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 1092-767/D=12/1442

     آدمی کے لئے سو روپئے کا سامان ایک ہزار میں بیچنا جب کہ خریدار سمجھ بوجھ کر اپنی رضامندی سے یہ قیمت دے رہا ہے جائز ہے اور بیچنے والے کے لئے یہ زاید رقم حلال ہوگی۔

    لیکن خریدار کی ناواقفیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے زاید قیمت لینا غیر اخلاقی بات ہوگی اور خلاف مروت ہے اور غبن فاحش تک قیمت بڑھانا ناجائز ہے۔ اور اگر خریدار یہ سمجھ رہا ہے کہ اور دکانوں میں جو قیمت ہوگی وہی یہ شخص بھی لے رہا ہے حالانکہ اس نے دھوکہ دے کر زاید قیمت لیا ہے تو یہ بھی ناجائز ہے۔ اخیر کی دونوں صورتیں حلال کمائی کی نہیں ہیں ان میں دھوکہ شامل ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند