• معاملات >> بیع و تجارت

    سوال نمبر: 56100

    عنوان: ایک شہر میں ایک ہی شخص کے ہاتھ پورا سامان فروخت کردینا ناجائز نہیں ہے، بشرطیکہ بیع وشراء کا معاملہ ضرر، غرر اور فاسد شرط سے خالی ہو

    سوال: میں سفر کے سامان جیسے اسکول بیگ، فائل بیگ وغیرہ کا بزنس کرتاہوں، میں یہ سامانا کولکتہ ، حیدر آباد ، چنئی وغیرہ جگہوں پر بیچنا چاہتاہوں، اور ایک شہر میں صرف ایک ہی شخص کو بیچنا چاہتاہوں ، اگر میں ایک شہر میں ایک سے زیادہ آدمیوں کو بیچوں تو اس سے تاجروں کے درمیان مقابلہ ہوگا اور کوئی تاجر میرا سامان مزید بیچنا نہیں چاہے گا، کیوں کہ مقابلے میں کافی تخفیف ہونے کی وجہ زیادہ منافع حاصل نہیں کرسکے گا ۔ اور اگر میں ایک شہر میں صرف ایک آدمی کو بیچتاہوں تو وہ خوشی سے سامان بیچے گاکیوں کہ اس کو زیادہ منافع ملے گا، اس لیے کہ وہ کسی دوسرے کے پاس نہیں ہوگا، اس سے گاہکوں کو زیادہ قیمت دینا ہوگی۔ براہ کرم، اس حدیث کی وضاحت کریں جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جگہ پر سامان کو نہ بیچو (نہ خریدو ) تاآں کہ سبھی تاجروں کو ان کی جگہوں کا سامان مل جائے ۔ میرے خیال میں کہ حدیث زید بن ثابت (رضی اللہ عنہ ) سے مروی ہے ۔ براہ کرم، میرے سوال سے متعلق مفصل جواب دیں۔جزاک اللہ خیر

    جواب نمبر: 56100

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 171-171/M=3/1436-U

    ایک شہر میں ایک ہی شخص کے ہاتھ پورا سامان فروخت کردینا ناجائز نہیں ہے، بشرطیکہ بیع وشراء کا معاملہ ضرر، غرر اور فاسد شرط سے خالی ہو، اور آپ نے جو روایت لکھی ہے اس کا حوالہ ناقص ہے برائے کرم مکمل حوالہ (کتاب کا نام، جلد نمبر، صفحہ نمبر اورمطبع) کے ساتھ ارسال کریں تو اس روایت کے متعلق کچھ لکھا جاسکتا ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند