• معاملات >> بیع و تجارت

    سوال نمبر: 29638

    عنوان: میں نے ایک گھر بک کرایا ہے، جس کی نصف ادائیگی مجھے چار سال کے بعد کرنی ہے،ابھی دوسال ہوگئے ہیں اور میں 25/ فیصد ادائیگی کردی ہے، چار سال کے بعد باقی کی نصف ادائیگی پیسوں کی کمی کی وجہ سے ہوم لون سے کرنی پڑے گی، لیکن میں ہوم لون کو سود سمجھتاتاہوں ۔ مجھے آپ کی رہنمائی کی ضرورت ہے۔ براہ کرم، قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب دیں۔

    سوال: میں نے ایک گھر بک کرایا ہے، جس کی نصف ادائیگی مجھے چار سال کے بعد کرنی ہے،ابھی دوسال ہوگئے ہیں اور میں 25/ فیصد ادائیگی کردی ہے، چار سال کے بعد باقی کی نصف ادائیگی پیسوں کی کمی کی وجہ سے ہوم لون سے کرنی پڑے گی، لیکن میں ہوم لون کو سود سمجھتاتاہوں ۔ مجھے آپ کی رہنمائی کی ضرورت ہے۔ براہ کرم، قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب دیں۔

    جواب نمبر: 29638

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(د): 349=183-3/1432

    سود لینا دینا حرام ہے: ﴿اَحَلَّ اللّٰہُ الْبَیْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا﴾ آپ کی سوچ درست ہے، ہوم لون بھی جائز نہیں؛ لیکن ابھی آپ کی ادائیگی میں چار سال کا طویل وقفہ ہے، آپ کوشش کرکے اس کو بلاسود کے ادائیگی کی سعی کریں، اگر ادائیگی کی اس وقت تک کوئی شکل پیدا نہ ہو تو اُس وقت اپنے تفصیلی حالات دوبارہ لکھ کر معلوم کرلیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند