• معاملات >> بیع و تجارت

    سوال نمبر: 2911

    عنوان:

    میں بروڈا، گجرات میں رہتاہوں، ہمارے یہاں ایک صاحب جن کا کاروبار اسلامی کتابوں کا ہے، جیسے قرآن شریف، ترجمہ، تفسیر، لیکن ساتھ میں وہ حضرت بدعت کی کتابیں بھی بیچتے ہیں اور امامت بھی کرتے ہیں، تو کیا اس شخص کے پیچھے نماز پڑھنا چاہئے یا نہیں؟ ان کی امامت میں نماز پڑھنا کیسا ہے؟ کیا نمازکی مقبولیت میں کوئی کمی آئے گی؟ اور کیا نماز درست ہوگی یا نہیں؟ کیونکہ حلال روزی بہت ضروری ہے۔ براہ کرم، جلد جواب دیں۔

    سوال:

    میں بروڈا، گجرات میں رہتاہوں، ہمارے یہاں ایک صاحب جن کا کاروبار اسلامی کتابوں کا ہے، جیسے قرآن شریف، ترجمہ، تفسیر، لیکن ساتھ میں وہ حضرت بدعت کی کتابیں بھی بیچتے ہیں اور امامت بھی کرتے ہیں، تو کیا اس شخص کے پیچھے نماز پڑھنا چاہئے یا نہیں؟ ان کی امامت میں نماز پڑھنا کیسا ہے؟ کیا نمازکی مقبولیت میں کوئی کمی آئے گی؟ اور کیا نماز درست ہوگی یا نہیں؟ کیونکہ حلال روزی بہت ضروری ہے۔ براہ کرم، جلد جواب دیں۔

    جواب نمبر: 2911

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 133/ ج= 128/ ج

     

    چوں کہ وہ صاحب بدعت کی کتابیں بیچتے ہیں اور اس میں بدعت کی ترویج ہے۔ اس لیے ایسی کتابیں کھلے عام بیچنا جائز نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: تَعَاوَنُوْا عَلَی الْبِرِّ وَالتَّقْوٰی وَ لاَ تَعَاوَنُوْا عَلَی الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ (الآیة) (احسن الفتاویٰ، ج۶ ص۵۳۱) اگر وہ صاحب لاعلمی میں ایسا کرتے رہے ہیں تو ان کے پیچھے نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں۔ امام صاحب کو مذکورہ بالا باتیں سمجھادی جائیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند