• معاملات >> بیع و تجارت

    سوال نمبر: 23776

    عنوان: میں بینک سے سود پر قرض لے کر بزنس کررہا ہوں، کاروبارا شیائے خورد ونوش کا ہے اور بالکل حلال اور جائز ہے۔ براہ کرم، بتائیں کہ بینک سے اس طرح لون لینا کیسا ہے؟ (۲) اس کاوربار سے جو میں بینک سے پیسے کررہا ہوں،ہونے والا منافع حلال ہے یا حرام ؟

    سوال: میں بینک سے سود پر قرض لے کر بزنس کررہا ہوں، کاروبارا شیائے خورد ونوش کا ہے اور بالکل حلال اور جائز ہے۔ براہ کرم، بتائیں کہ بینک سے اس طرح لون لینا کیسا ہے؟ (۲) اس کاوربار سے جو میں بینک سے پیسے کررہا ہوں،ہونے والا منافع حلال ہے یا حرام ؟

    جواب نمبر: 23776

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(م): 1058=1058-7/1431

    بینک سے لون لینے میں سود دینا پڑتا ہے اور شریعت میں جس طرح سود لینا حرام ہے اسی طرح بغیر سخت مجبوری کے سود دینا بھی ناجائز ہے کیونکہ حدیث میں سود کھانے والے اور کھلانے والے دونوں پر لعنت آئی ہے، آپ نے اگر شدید ضرورت کے بغیر بینک سے سودی لون لیا ہے تو غلط کیاآپ کو اس گناہ سے توبہ استغفار کرنا چاہیے اور جلد از جلد قرض کی ادائیگی سے سبکدوشی حاصل کرنی چاہیے، البتہ اس پیسے سے جو کاروبار کیا اگر وہ حلال ہے تو اس سے حاصل منافع پر بھی ناجائز اور حرام کا حکم نہیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند