• معاملات >> بیع و تجارت

    سوال نمبر: 2213

    عنوان:

    آجکل پروپرٹی ڈیلنگ کا کام بہت عروج پہ ہے، براہ کرم، کتابوں کے حوالے کے ساتھ جواب دینے کی زحمت کریں۔ (۱) کیا پروپرٹی ( زمین پلاٹ، یا گھر) کی خرید و فروخت کا کاروبار جائزہے؟ (۲) کیا پارٹی (خریدار ) سے پلاٹ کی قیمت کا کچھ فیصد پروپرٹی ڈیلر کے لینا جائزہے؟ (۳) کیا پروپرٹی ڈیلر کو خریدنے والے اور بیچنے والے دونوں سے مثلا ۲ ،۲ فیصد لینا جائزہے؟

    سوال:

    آجکل پروپرٹی ڈیلنگ کا کام بہت عروج پہ ہے، براہ کرم، کتابوں کے حوالے کے ساتھ جواب دینے کی زحمت کریں۔ (۱) کیا پروپرٹی ( زمین پلاٹ، یا گھر) کی خرید و فروخت کا کاروبار جائزہے؟ (۲) کیا پارٹی (خریدار ) سے پلاٹ کی قیمت کا کچھ فیصد پروپرٹی ڈیلر کے لینا جائزہے؟ (۳) کیا پروپرٹی ڈیلر کو خریدنے والے اور بیچنے والے دونوں سے مثلا ۲ ،۲ فیصد لینا جائزہے؟

    جواب نمبر: 2213

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 590/ ل= 590/ ل

     

    (۱) جائز ہے۔ (۲) اگر پروپرٹی ڈیلر بائع اور مشتری کے درمیان دلالی کرتا ہے تو اس کے لیے اس کی اجرت جائز ہوگی بشرطیکہ اجرت کی تعیین ہو اور پلاٹ کی قیمت کا کچھ فیصد متعین کرنا بھی تعیین ہے اس لیے اس رقم کے لیے میں کوئی ممانعت نہیں ہے: إجارة السمسار والمنادي والحمامي والصکاک وما لا یقدر فیہ الوقت ولا العمل تجوز لما کان للناس بہ حاجة ویطیب الأجر الماخوذ لو قدر أجر المثل (شامي: ج۹ص۶۴، ط زکریا دیوبند)

    (۳) دونوں سے دو دو فیصد متعین کرکے لینا بھی جائز ہے: فتجب الدلالة علی البائع أو المشتري أوعلیھما بحسب العرف (شامي: ج۷ ص۹۳، ط زکریا دیوبند) اور شرح منظومہ ابن وہبان میں ہے: لو سعی البائع بینھما وباع المالک بنفسہ ینظر إلی العرف إن کانت الدلالة علی البائع فعلیہ وإن کانت علی المشتري فعلیہ وإن کانت علیھما فعلیھما (شرح منظومہ ان وھبان: ۲/۷۸، الوقف المدني الخیري)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند