• معاملات >> بیع و تجارت

    سوال نمبر: 2005

    عنوان: ہم لوگ من فضل اللہ ایک ٹرسٹ (وقف) بنانے والے ہیں۔ اس کا مقصد مسلمانوں کو غیر مسلم قوم کی محتاجی سے نکال کر اللہ کی محتاجی میں لاناہے۔ اس لیے ہمار ا ارداہ اپنے خود کے اسکول، کالج اور فیکٹریاں کھولنا ہے تاکہ مال حلا ل طریقے سے کمایا جائے۔ جو طریقے غیر قوم نے پھیلا رکھے ہیں انہیں مٹاکر اسلامی طریقے جاری کئے جائیں، مسلمانوں کے دین کی حفاظت کا معقول انتظام کیا جائے، مسلمانوں کو غیروں کے آگے ہاتھ پھیلانے سے بچایا جائے۔ چنانچہ اس سلسلے میں ہمیں مال کی کمی پیش آرہی ہے۔ کیا ہمارے لیے قرأت کو ترجمے کے ساتھ ریکارڈ کرکے کیسٹ، سی ڈی کی صورت میں بیچنا جائز ہے؟ اس کے ریکارڈ میں جو خرچہ آئے کیا تو اس کام میں مشغول افراد کے خرچ بھی جوڑا جا سکتا ہے؟ اس کے علاوہ کیا اذان اور اسی طرح کی کچھ چیزوں کو ریکارڈ کرکے موبائل رنگ ٹون کی شکل میں بیچنا جائز ہوگا؟ کیا یہی حکم قرآن کے متعلق بھی لاگو ہوگا؟

    سوال: ہم لوگ من فضل اللہ ایک ٹرسٹ (وقف) بنانے والے ہیں۔ اس کا مقصد مسلمانوں کو غیر مسلم قوم کی محتاجی سے نکال کر اللہ کی محتاجی میں لاناہے۔ اس لیے ہمار ا ارداہ اپنے خود کے اسکول، کالج اور فیکٹریاں کھولنا ہے تاکہ مال حلا ل طریقے سے کمایا جائے۔ جو طریقے غیر قوم نے پھیلا رکھے ہیں انہیں مٹاکر اسلامی طریقے جاری کئے جائیں، مسلمانوں کے دین کی حفاظت کا معقول انتظام کیا جائے، مسلمانوں کو غیروں کے آگے ہاتھ پھیلانے سے بچایا جائے۔ چنانچہ اس سلسلے میں ہمیں مال کی کمی پیش آرہی ہے۔ کیا ہمارے لیے قرأت کو ترجمے کے ساتھ ریکارڈ کرکے کیسٹ، سی ڈی کی صورت میں بیچنا جائز ہے؟ اس کے ریکارڈ میں جو خرچہ آئے کیا تو اس کام میں مشغول افراد کے خرچ بھی جوڑا جا سکتا ہے؟ اس کے علاوہ کیا اذان اور اسی طرح کی کچھ چیزوں کو ریکارڈ کرکے موبائل رنگ ٹون کی شکل میں بیچنا جائز ہوگا؟ کیا یہی حکم قرآن کے متعلق بھی لاگو ہوگا؟

    جواب نمبر: 2005

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 1878/ ھ= 1439/ ھ

     

    قرأت کو ترجمہ کے ساتھ ریکارڈ کرنے اور کیسٹ نیز سی ڈی بنانے کی کیا کیا شکلیں تجویز کی ہیں؟ اذان و دیگر کلمات طیبات کو ریکارڈ کرنا اور موبائل رنگ ٹون کرکے بیچنا جائز نہیں۔ یہی حکم قرآن کریم کی رنگ ٹون کرنے کا بھی ہے۔ ریکارڈ کرنے والوں کا خرچہ جوڑے جانے سے کیا مراد ہے؟ اس کو صاف اور واضح انداز پر لکھئے تب ان شاء اللہ جواب لکھ دیا جائے گا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند