• معاملات >> بیع و تجارت

    سوال نمبر: 179847

    عنوان: بزنس کرنے کے لیے کوئی رقم ادھار نہیں دیتا ایسی صورت میں بینك سے لین لینا درست ہے یا نہیں؟

    سوال:

    حضرت مفتی صاحب میرا used Cars{استعمال شدہ کار} کا business {بزنس}ہے ۔ میں بینک سے بزنس لون لینا چاہتا ہوں۔ شریعت کی رو سے کیا اجازت ہے ؟ کوئی آسان شکل ہو تو رہبری فرمائیں۔ بزنس کرنے کے لیے کوئی جلدی بڑی رقم اُدھار نہیں دیتا اور دیتا ہے تو بڑی رقم کا مطالبہ کرتا ہے ، جبکہ بینک ۱۰٪تک کا سود لیتی ہے ۔ حضرت مفتی صاحب میں مالی اعتبارسے مضبوط نہیں ہوں ۔ براہ کرم، مجھے کوئی راستہ دکھلائیں ۔ میں ملازمت بھی نہیں کرنا چاہتا۔

    جواب نمبر: 17984716-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 44-21/B=01/1442

     جس طرح سود کا لینا حرام ہے اسی طرح سود کا دینا بھی حرام، سود لینے والے اور دینے والے دونوں پر لعنت آئی ہے۔ جب آپ بزنس لون بینک سے لیں گے تو ظاہر ہے کہ اس کی ادائیگی سود کے ساتھ کریں گے ۔ یہ بہت بے برکتی کی بات ہے۔ آپ خسارہ میں رہیں گے۔ اس لئے سودی قرض لینا مسلمان کے لئے جائز نہیں۔ جس قدر پونجی ہو اسی سے کوئی چھوٹا موٹا کام شروع کردیں۔ اللہ تعالی برکت دے گا۔ اور اگر اس کی بھی وسعت نہیں ہے تو مجبوری میں کچھ دنوں کے لئے ملازمت کرلینے میں کوئی حرج نہیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند