• معاملات >> بیع و تجارت

    سوال نمبر: 1521

    عنوان:

    میر ے کچھ سوالات ہیں، براہ کر م جواب دیں۔ (۱) میں ایم این سی میں ایک ای میل اسسٹنٹ انجینئر کی حیثیت سے کام کر رہاہوں، یہ ایک امریکی بینک ہے۔ کیا اس میں کام کرنا صحیح ہے؟  (۲) کیا میں شیئر مارکیٹ پالیسی میں روپئے لگا سکتا ہوں جس میں بینک میر ے روپئے سے خریداری کرے گا اور منافع ہونے کی صورت میں فروخت کرے گا، اس صورت میں مجھے صرف نفع ملے گا، یہ منافع متعین نہیں بلکہ یہ ریٹ پر منحصر ہوگا،یہ تین یا پانچ سالہ پالیسی ہے۔یا بینک شروع میں خریدے گا اور تین یا پانچ سال کے بعد فروخت کرے گاجس سے لازمی طور پر نفع ہوگا۔ ۔۔۔؟؟

    سوال:

    میر ے کچھ سوالات ہیں، براہ کر م جواب دیں۔

    (۱) میں ایم این سی میں ایک ای میل اسسٹنٹ انجینئر کی حیثیت سے کام کر رہاہوں، یہ ایک امریکی بینک ہے۔ کیا اس میں کام کرنا صحیح ہے؟

     (۲) کیا میں شیئر مارکیٹ پالیسی میں روپئے لگا سکتا ہوں جس میں بینک میر ے روپئے سے خریداری کرے گا اور منافع ہونے کی صورت میں فروخت کرے گا، اس صورت میں مجھے صرف نفع ملے گا، یہ منافع متعین نہیں بلکہ یہ ریٹ پر منحصر ہوگا،یہ تین یا پانچ سالہ پالیسی ہے۔یا بینک شروع میں خریدے گا اور تین یا پانچ سال کے بعد فروخت کرے گاجس سے لازمی طور پر نفع ہوگا۔

     (۳) لائف انشو رنس پالیسی کے با رے میں اسلا م کیا کہتاہے؟

     (۴) کیاطبی پالیسی (عام صحت انشورنس)جو ایک میڈیکل انشورنس ہے، خرید سکتے ہیں؟

    (۵) کنڈوم کے استعمال اور فیملی پلاننگ کے بارے میں ا سلام کیاکہتا ہے؟

    (۶) مقعد کی طر ف سے دخول کرنا اور منہ میں دینا کیسا ہے، اگر بیو ی سو فیصد راضی ہو بلکہ اس کے لیے وہ کہے؟

    جواب نمبر: 1521

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 435/ ل= 435/ ل

     

    ۱- اگر سودی کاروبار اس میں لکھنے پڑتے ہیں تب تو اس میں کام کرنا ناجائز ہوگا کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود لکھنے والے پر بھی لعنت فرمائی ہے اور اگر کوئی اور کام اس میں کرنا پڑتا ہے تو اس کو لکھ کر دوبارہ استفتاء ارسال فرمائیں۔

    ۲- شیئرز پالیسی میں حصہ لینا چار شرائط کے ساتھ درست ہے۔ (۱) اول یہ کہ وہ کمپنی حرام کاروبار میں ملوث نہ ہو، مثلاً وہ سودی بینک نہ ہو، سود اور قمار پر مبنی انشورنس کمپنی نہ ہو، شراب کا کاروبار کرنے والی کمپنی نہ ہو وغیرہ وغیرہ۔ (۲) اس کمپنی کے تمام اثاثے او راملاک نقد رقم کی شکل میں نہ ہوں؛ بلکہ اس کمپنی کے کچھ منجمد اثاثے ہوں مثلاً اس نے بلڈنگ بنالی ہو یا زمین خرید لی ہو اور واقعةً کمپنی قائم کرکے اس نے کاروبار شروع کردیا ہو اور یہ امر تحقیق سے معلوم کرلیا ہو۔ (۳) اگر اس کمپنی کا کسی قسم کے سودی کاروبار میں ملوث ہونا ممبر بننے کے بعد معلوم ہو تو اس کی سالانہ میٹنگ میں اس معاملہ کے خلاف آواز اٹھائی جائے۔ (۴) جب منافع تقسیم ہوں اس وقت جتنا نفع کا جتنا حصہ سودی معاملہ سے حاصل ہواہو اس کو بلانیت ثواب فقراء پر صدقہ کردے۔ اگر مذکورہ بالا شرائط میں سے کوئی ایک شرط بھی نہیں پائی گئی تو شیئرز کی پالیسی میں حصہ لینا ناجائز ہوگا؛ اس لیے صورت مسئولہ میں اگر مذکورہ بالا شرائط پائے جارہے ہوں تو اس میں حصہ لینا جائز ہوگا، نیز مذکورہ بالا شرائط کے پائے جانے کے بعد یہ بھی ضروری ہے کہ جتنے لوگ شریک ہوں ان کا حصہ پورے نفع سے متعین ہو اگرچہ آدھا فیصد یا اس سے کم ہی کیوں نہ ہو؛ کیونکہ شرکت میں اگر پورے نفع میں شریک کا حصہ متعین نہ کیا جائے تو وہ شرکت فاسد ہوجاتی ہے وأن یکون الربح جزءً شائعا في الجملة لا معینا (عالم گیري: ج۲ ص۳۰۱)

    ۳و ۴- لائف انشورنس یا میڈیکل انشورنس کا ممبر بننا ناجائز ہے کیونکہ یہ سود اور جوا دونوں پر مشتمل ہوتے ہیں اور یہ دونوں بنص قطعی حرام ہیں۔

    ۵- کنڈوم یا دیگر مانع حمل دوا کے استعمال کرنے میں تفصیل یہ ہے کہ اگر عورت کی صحت خراب ہو یا تکالیف حمل برداشت کرنے کی طاقت نہ ہو یا استقرار حمل میں ایسی تکالیف کا اندیشہ ہو جو ناقابل تحمل و برداشت ہوں یامسلمان دین دار طبیب حاذق کی اس کی تشخیص ہو تو ان صورتوں میں عارضی طور پر قوت و صحت کی بحالی کے لیے ان چیزوں کے استعمال کی اجازت ہوجائے گی اور اگر یہ سب عوارض نہ ہوں تو عارضی طور پر بھی ان چیزوں کا استعمال کرنا مقصد شرع و شارع کے خلاف اور ان کی ناخوشنودی کا سبب ہوگا اس لیے کہ تکثیر امت اجابت، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا منشاء ہے چنانچہ فرمایا گیا ہے : تزوجوا الودود الولود فإني مکاثر بکم الأمم (مشکوة شریف: ج۲ ص۲۶۷)

    ۶- مقعد کی طرف سے وطی اگر عورت کی اگلی شرمگاہ میں کی جائے تو یہ جائز ہے لیکن پیچھے کی راہ میں وطی کرنا حرام ہے اگرچہ عورت اجازت بھی دیدے وظاھر الکتاب یدل علی أن الإباحة مقصورة علی الوطأ في الفرج الذي ھو موضع الحرث وھو الذي یکون منہ الولد وقد رویت عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم آثار کثیرة في تحریمہ رواہ خزیمة بن ثابت و أبوھریرة وعلي بن طلق کلھم عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم أنہ قال: لا تأتوا النساء في أدبارھن (أحکام القرآن: ج۱ ص۴۲۴) مرد کو اپنی شرمگاہ عورت کے منھ میں دینا مکروہ و ناجائز ہے وفي النوازل: إذا أدخل الرجل ذکرہ في فم امرأتہ قد قیل یکرہ وقد قیل بخلافہ (عالمگیري: ج۵ ص۳۷۲) اور احسن الفتاویٰ میں مزید لکھتے ہیں أقول المبیح مجھول منکر و قولہ مردود شرعاً وعقلاً (احسن الفتاوی: ج۸ ص۴۵)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند