• معاملات >> بیع و تجارت

    سوال نمبر: 149982

    عنوان: ساجھے داری میں کاروبار کرنا

    سوال: میں اپنے ماموں کے ساتھ ایک کاروبار آدھا آدھا ساجھے داری میں ساتھ مل کرتا ہوں، اور ہماری مارکیٹ میں کاروبار کرنے کے لیے دوکان موجود ہے، ابھی کچھ وقت پہلے میں نے کسی شخص کے ساتھ کسی دوسرے شہر کی مارکیٹ میں اسی طرح کا کاروبار جو میں ماموں کے ساتھ کرتا ہوں، ساجھے داری میں کیا ہے، جس میں میری سابقہ دوکان اور کاروبار سے کوئی پیسہ یا مال نہیں لگا ہے بلکہ وہ پیسہ اور مال الگ سے اس شخص کا ذاتی ہے، مگر میرے ماموں اس بات پر ناراضگی ظاہر کرتے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ یہ حرام ہے کہ تم کہیں اور کسی کے ساتھ کاروبار کرو، جہاں بھی کاروبار کرو تو مجھے ساجھے دار بناکر کرو ورنہ مت کرو، کیونکہ یہ حرام ہے۔ میں علمائے دین کی اس مسئلہ پر رائے جاننا چاہتا ہوں۔

    جواب نمبر: 149982

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 642-581/sd=6/1438

     اگر کوئی شریک مشترک کاروبار کے علاوہ اپنا الگ سے کوئی ذاتی کاروبار شروع کر دے اور کسی کے ساتھ شرکت یا مضاربت کا معاہدہ کر لے، تو جائز ہے، اِس صورت میں اُس کے ذاتی کاروبار کا نفع سابقہ مشترک کاروبار سے الگ ہی رہے گا اور اس کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہوگا، پس صورتِ مسئولہ میں اگر آپ ماموں کے ساتھ ساجھے داری میں کاروبار کے ساتھ الگ سے بھی کسی کے ساتھ شرکت یا مضاربت کا کاکاروبار کر رہے ہیں، تو یہ جائز ہے ؛ البتہ ماموں کے ساتھ شرکت کے معاملہ میں جو تفصیلات باہم طے پائی ہوں، اُن کا لحاظ ضروری ہے۔ (شرکت و مضاربت عصر حاضر میں، ص: ۲۹۰، بعنوان: کسی شریک کا الگ کاروبار )


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند