• معاملات >> بیع و تجارت

    سوال نمبر: 1211

    عنوان: ہمارے یہاں ایک نئی کمپنی کھل چکی ہے،اس کی ترتیب اس طرح پر ہے۔ ایک آدمی اس میں پانچ سو ڈالر جمع کرتا ہے اور اس کے بعد یہی شخص چھ اور ممبر تیار کرتا ہے ، وہ بھی پانچ سو ڈالر اس میں جمع کرتے ہیں۔ ان کو تیار کرنے کے بعد اس پہلے والے شخص کو ہر مہینے ایک یا دو بار ڈھائی سو ڈالر ملتے ہیں۔ اور باقی چھ ممبر میں سے ہر ایک آگے چھ ممبر تیار کرے گا ۔ پھر اس کے بعد اس میں سے ہر ایک کو ڈھائی سو ڈالر مہینے میں ایک بار یا دو بار ملیں گے۔ شرعاً اس میں حصہ ڈالنا یا ممبر بننا درست ہے یا نہیں؟اس کمپنی کے پاس مفتی حضرات بھی ہیں اور بہت تیزی سے یہ کاروبار چل اور بڑھ رہا ہے۔ مہربانی فرماکر اس کا جواب عنایت فرمائیں تاکہ اگر یہ درست نہ ہو تو لوگ اس مصیبت سے بچ جائیں۔

    سوال: ہمارے یہاں ایک نئی کمپنی کھل چکی ہے،اس کی ترتیب اس طرح پر ہے۔ ایک آدمی اس میں پانچ سو ڈالر جمع کرتا ہے اور اس کے بعد یہی شخص چھ اور ممبر تیار کرتا ہے ، وہ بھی پانچ سو ڈالر اس میں جمع کرتے ہیں۔ ان کو تیار کرنے کے بعد اس پہلے والے شخص کو ہر مہینے ایک یا دو بار ڈھائی سو ڈالر ملتے ہیں۔ اور باقی چھ ممبر میں سے ہر ایک آگے چھ ممبر تیار کرے گا ۔ پھر اس کے بعد اس میں سے ہر ایک کو ڈھائی سو ڈالر مہینے میں ایک بار یا دو بار ملیں گے۔ شرعاً اس میں حصہ ڈالنا یا ممبر بننا درست ہے یا نہیں؟اس کمپنی کے پاس مفتی حضرات بھی ہیں اور بہت تیزی سے یہ کاروبار چل اور بڑھ رہا ہے۔ مہربانی فرماکر اس کا جواب عنایت فرمائیں تاکہ اگر یہ درست نہ ہو تو لوگ اس مصیبت سے بچ جائیں۔

    جواب نمبر: 1211

    بسم الله الرحمن الرحيم

    (فتوى:  1111/هـ = 849/هـ)

     

    جب کمپنی کے پاس مفتی حضرات ہیں تو غالب یہی ہے کہ ان حضرات کے فتاویٰ کو ملحوظ رکھ کر ہی کمپنی کاروبار کرتی ہوگی؟ اس لیے بہتر یہ ہے کہ جن مفتی حضرات کی خدمات کمپنی کو حاصل ہیں ان سے رابطہ کرکے متعلقہ فتاویٰ منگالیں ان حضرات کے فتاویٰ کو سامنے رکھ کر تفصیل سے جواب لکھ دیا جائے گا، ان شاء اللہ جو کچھ تھوڑی سی تفصیل آپ نے کمپنی سے متعلق لکھی ہے اس کے پیش نظر شرکت کے جواز کی صورت ہماری سمجھ میں نہیں آتی۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند