• معاملات >> بیع و تجارت

    سوال نمبر: 12067

    عنوان:

    ناروے کی ایک کمپنی جس کا نام گولڈ مائن انٹرنیشنل ہے۔ وہ لوگ ایک کاروبار کرواتے ہیں جس میں ٹری سسٹم ہے یعنی پہلے ان کی چیزیں خریدو پھر دو بندے لاؤ اور وہ بھی ان کی چیزیں خریدیں تو پھر اس کا فائدہ ملتا رہتاہے۔ اور جس طرح بندے آتے رہتے ہیں تو اس کا فائدہ ملتا رہتا ہے یہاں تک کہ جتنی چیزیں ہم نے خریدی ہوتی ہیں اس سے کہیں زیادہ ہم کما چکے ہوتے ہیں۔ اسی طرح جو بندے ہم لاتے ہیں ان کے ساتھ بھی بالکل یہی معاملہ ہوتاہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح کا کاروبار کرنا جائز ہے؟ اس میں سود او رجوا کا شائبہ ہے یا نہیں؟ برائے مہربانی مجھے اس کے بارے میں بتاکر میری رہنمائی فرمائیں اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو۔

    سوال:

    ناروے کی ایک کمپنی جس کا نام گولڈ مائن انٹرنیشنل ہے۔ وہ لوگ ایک کاروبار کرواتے ہیں جس میں ٹری سسٹم ہے یعنی پہلے ان کی چیزیں خریدو پھر دو بندے لاؤ اور وہ بھی ان کی چیزیں خریدیں تو پھر اس کا فائدہ ملتا رہتاہے۔ اور جس طرح بندے آتے رہتے ہیں تو اس کا فائدہ ملتا رہتا ہے یہاں تک کہ جتنی چیزیں ہم نے خریدی ہوتی ہیں اس سے کہیں زیادہ ہم کما چکے ہوتے ہیں۔ اسی طرح جو بندے ہم لاتے ہیں ان کے ساتھ بھی بالکل یہی معاملہ ہوتاہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح کا کاروبار کرنا جائز ہے؟ اس میں سود او رجوا کا شائبہ ہے یا نہیں؟ برائے مہربانی مجھے اس کے بارے میں بتاکر میری رہنمائی فرمائیں اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو۔

    جواب نمبر: 12067

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 589=543/ب

     

    نفع حاصل کرنے کا شرعی اصول یہ ہے کہ سرمایہ لگانے کے ساتھ آدمی محنت کرے، زر سے زر حاصل نہ کرے، یہ ممنوع اور ناجائز ہے، صورت مسئولہ میں زر سے زر کمانا، قمار وجوا کی شکل ہے اس لیے یہ جائز نہیں۔ اس کے عدم جواز کی اور بھی کئی وجوہات ہیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند