• عبادات >> زکاة و صدقات

    سوال نمبر: 177368

    عنوان: جس عورت كا ذریعہ آمدنی كچھ نہیں مگر اس كے پاس ساڑھے چھ تولہ سونا اور چار تولہ چاندی ہے‏، كیا اس پر زكات واجب ہے؟

    سوال: میری بیوی کے پاس ساڑھے چھ تولہ سونا اور چار تولہ چاندی ہے، وہ ہاؤس وائف(بیوی جو ملازمت نہ کرتی ہو) ہے اور اس کا کوئی ذریعہ آمدنی نہیں ہے، میں عام طورپر کسی وقت اس کو ایک ہزار سے دو ہزار روپئے دیتاہوں (ایک یا دو مہینے میں)، سوال یہ ہے کہ کیا وہ صاحب نصاب ہے؟کیا اس پر زکاة واجب ہے؟ براہ کرم، رہنمائی فرمائیں۔ جزاک اللہ

    جواب نمبر: 17736801-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 659-502/B=07/1441

    سونے اور چاندی دونوں کی مالیت جوڑی جائے اگر وہ ساڑھے باون تولہ چاندی (۶۱۲/ گرام ۳۶۰/ ملی گرام) کی مالیت کے برابر پہونچتی ہے اور یقینا پہونچ جائے گی اس لئے وہ صاحب نصاب ہے، اس پر پوری مالیت کا چالیسواں حصہ ہر سال نکالنا واجب ہوگا۔ اس کو زکاة کا پیسہ لینا جائز نہ ہوگا۔ آپ اسے جو رقم دیں امدادی رقم دیں، زکاة کی مد کی رقم نہ دیں۔ شوہر کا اپنی بیوی کو یا بیوی کا اپنے شوہر کو زکاة دینا جائز نہیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند