• معاشرت >> عورتوں کے مسائل

    سوال نمبر: 768

    عنوان:

    میرا سوال یہ ہے کہ اگر کوئی شوہر اللہ کے حکم کے مطابق اپنی بیوی سے کہے کہ تم پردہ کرو اور وہ نہ مانے، سات آٹھ مہینے تک اسے سمجھاتا رہے کہ وہ پردہ کرے، پھر بھی وہ نہ مانے تو کیا شوہر اپنی بیوی سے زبردستی پردہ کرواسکتا ہے؟ اور اگر نہیں تو پھر اس کو کیا کرنا چاہیے کہ جس سے اس کی بیوی پردہ کرنے پر راضی ہوجائے؟

    سوال:

    میرا سوال یہ ہے کہ اگر کوئی شوہر اللہ کے حکم کے مطابق اپنی بیوی سے کہے کہ تم پردہ کرو اور وہ نہ مانے، سات آٹھ مہینے تک اسے سمجھاتا رہے کہ وہ پردہ کرے، پھر بھی وہ نہ مانے تو کیا شوہر اپنی بیوی سے زبردستی پردہ کرواسکتا ہے؟ اور اگر نہیں تو پھر اس کو کیا کرنا چاہیے کہ جس سے اس کی بیوی پردہ کرنے پر راضی ہوجائے؟ یاد رہے کہ وہ ہر طرح زبانی طور پر بیوی کو سمجھا چکا ہے، لیکن وہ مانتی نہیں۔

     والسلام

    جواب نمبر: 76831-Aug-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    (فتوى: 831/هـ=585/هـ)

     

    اپنا اور اپنی بیوی کا مزاج نیز گھر یلو نظام ملحوظ رکھ کر کبھی کبھار مناسب مقدار میں زبردستی کا انداز اختیار کرلیا جائے تو گنجائش ہے مگر بہتر یہی ہے کہ حکمت، بصیرت، نرمی و شفقت، سے ہی نصیحت کرتے رہیں۔ اصل یہ ہے کہ انسدادِ گناہ (بے پردگی وغیرہ)کے لیے تزکیئہ باطن کی ضرورت ہے. دل میں اگر خوف و خشیت، تقوی و طہارت پیدا ہوجائے، جنت و جہنم کا استحضار ہو جائے، قبر، حشر، حساب کتاب اور آخرت کی جواب دہی کا احساس ہوجائے تو بڑے بڑے گناہوں کا چھوڑدینا بہت آسان ہوجاتا ہے ورنہ عامة سختی سے اصلاح نہیں ہوتی اگر ہوتی بھی ہے تو عارضی ہوتی ہے۔ بہشتی زیور حیوة المسلمین، فضائل اعمال، جزاء اعمال جیسی کتابوں کا گھر میں سننے سنانے اور مطالعہ کا ماحول بنائیں۔ ان شاء اللہ اس سے فائدہ ہوگا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند