• معاشرت >> عورتوں کے مسائل

    سوال نمبر: 440

    عنوان:

    کیا کسی عورت کے لیے جائز ہے کہ وہ برتھ کنٹرول آپریشن کروالے؟ اس سے اس کی نیت کھانے یا پیسہ بچانے کی نہیں، بلکہ مقصود صرف ذہنی سکون، صحت اور موجودہ دو تین بچوں کی صحیح تعلیم و تربیت ہے۔

    سوال:

    کیا کسی عورت کے لیے جائز ہے کہ وہ برتھ کنٹرول آپریشن کروالے؟ اس سے اس کی نیت کھانے یا پیسہ بچانے کی نہیں، بلکہ مقصود صرف ذہنی سکون، صحت اور موجودہ دو تین بچوں کی صحیح تعلیم و تربیت ہے۔

    جواب نمبر: 44001-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    (فتوى: 654/ج=654/ج)

     

    سوال میں ذکر کردہ مقاصد کے پیش نظر برتھ کنٹرول آپریشن کرانا کہ اس سے قوت تولید دائمی طور پر ختم ہوجائے، ہرگز ہرگز جائز نہیں: عن سعد بن أبي وقاص رضي اللہ عنہ یقول: ردّ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علی عثمان بن مظعون التبتل ولو أذن لہ لاختصینا رواہ البخاري في صحیح کتاب النکاح باب ما یکرہ من التبتل والخصاء: ص759، وقال العیني في عمدة القاري 20/72، تحت هذا الحدیث: إن الاختصاء في الآدمي حرام مطلقا اھ.


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند