• معاشرت >> عورتوں کے مسائل

    سوال نمبر: 387

    عنوان:

    سماج کی موجودہ صورت حال کے پیش نظر، از روئے شریعت اسلامیہ عورتوں (شادی شدہ و غیر شادی شدہ) کے لیے کیا یہ جائز ہے کہ وہ غیر محرم مرد دکانداروں سے(کسی محرم کی عدم موجودگی میں) انڈر گارمنٹ جیسے سینہ بند، انڈر ویر، پینٹی وغیرہ سامان خریدیں؟ شادی شدہ و غیر شادی شدہ دونوں طرح کی عورتوں کے لیے اس کا حل کیا ہے؟شادی شدہ عورتوں کے لیے ان کے شوہر خریداری کرسکتے ہیں ، لیکن غیر شادی شدہ عورتوں کی خریداری وغیرہ کا ذمہ دار کون ہے، ان کی مائیں یا کوئی اور؟

    سوال:

    سماج کی موجودہ صورت حال کے پیش نظر، از روئے شریعت اسلامیہ عورتوں (شادی شدہ و غیر شادی شدہ) کے لیے کیا یہ جائز ہے کہ وہ غیر محرم مرد دکانداروں سے(کسی محرم کی عدم موجودگی میں) انڈر گارمنٹ جیسے سینہ بند، انڈر ویر، پینٹی وغیرہ سامان خریدیں؟ شادی شدہ و غیر شادی شدہ دونوں طرح کی عورتوں کے لیے اس کا حل کیا ہے؟شادی شدہ عورتوں کے لیے ان کے شوہر خریداری کرسکتے ہیں ، لیکن غیر شادی شدہ عورتوں کی خریداری وغیرہ کا ذمہ دار کون ہے، ان کی مائیں یا کوئی اور؟

    جواب نمبر: 38701-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    (فتوى: 79/د=79/د)

     

    عورتوں کا اس طرح کی چیزیں خود خریدنا خواہ پردہ کے ساتھ ہی کیوں نہ ہو حیاء کے خلاف ہے، اور حدیث میں فرمایا گیا ہے الحیاء شعبة من الإیمان، حیا ایمان کا اہم شعبہ ہے۔ لہٰذا شادی شدہ عورتوں کے لیے صحیح طریقہ یہی ہے کہ ان کے شوہر اس طرح کی ضروریات کی چیز خریدکر لادیا کریں۔ اورغیرشادی شدہ لڑکیوں کے لیے ان کی ماں اپنے شوہر یعنی لڑکی کے باپ سے منگوادیا کریں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند