• معاشرت >> عورتوں کے مسائل

    سوال نمبر: 168318

    عنوان: مرد ڈاكٹر سے عورت كی سونوگرافی كروانا؟

    سوال: کسی عورت کی سونوگرافی مرد ڈاکٹر کے پاس کروانا جائز ہے ؟ اگر جائز نہیں تو توبہ کی کیا صورت ہوگی؟

    جواب نمبر: 16831801-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 585-535/H=06/1440

    جس جس حصہٴ جسم کا چھپانا فرض ہے اگر سونو گرافی میں اس کو کھولے بغیر چارہٴ کار نہ ہو اور سونوگرافی بھی کسی ماہر طبیب یا ڈاکٹر نے ضروری ہونا تجویز کردی ہو تو اولاً کوشش کی جائے کہ عورت ڈاکٹرنی سے سونوگرافی کرائیں اگر پوری کوشش کے باوجود کامیابی نہ مل سکے تو مجبوراً ضروری مقدار میں حصہٴ جسم کو کھول کر یا معائنہ کرکے مرد ڈاکٹر سونوگرافی کردے تو مجبوری میں گنجائش ہے اگر کچھ کوتاہی مریضہ عورت یا اُس کے اولیاء تیمارداروں سے ہو جائے تو اُس سے سچی پکی توبہ کی جائے اور آئندہ کے لئے عزم کیا جا ئے کہ کسی طرح کی بے احتیاطی کی نوبت نہ آئے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند