• معاشرت >> عورتوں کے مسائل

    سوال نمبر: 168169

    عنوان: اگر عورت كی جان كو خطرہ ہو تو كیا نسبندی جائز ہے؟

    سوال: احقر کا سوال یہ ہے کہ احقر کی بیوی کے چار آپریشن ہوچکے ہیں، پانچویں آپریشن کے لیے ڈاکٹر نے بیوی کی اور بچوں کی جان کو خطر بتایاہے ، لہذا، حضرت سے سوال یہ ہے کہ اس نوعیت پر کیا نسبندی کرانا کیساہے؟ یا کونسا طریقہ شریعت میں ہے جس سے بیوی سے مباشرت کے بعد حمل نہ ٹھہرے ، احقر کو صحیح جواب دیں۔

    جواب نمبر: 16816901-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 443-371/D=05/1440

    نس بندی کرانا جائز نہیں ہے، البتہ اگر کوئی مسلمان ماہر ڈاکٹر یہ تجویز کردے کہ نس بندی کرائے بغیر استقرار حمل کی صورت میں عورت کی جان بچنے کی کوئی دوسری شکل نہیں ہے تو ایسی اضطراری حالت میں نس بندی کرانے کی گنجائش ہے۔ الضرورات تبیح المحظورات (آپ کے مسائل اور ان کا حل: ۸/۴۷۹، ط: نعیمیہ دیوبند) لہٰذا صورت مسئولہ میں یعنی جبکہ چار آپریشن ہو چکے ہیں اور پانچویں آپریشن میں جان کا خطرہ ہے نس بندی کرانے کی گنجائش ہے۔

    نوٹ: نسبندی کرانے سے پہلے بہتر ہے کہ کسی ماہر دیندار ڈاکٹر سے مشورہ کر لیا جائے۔ (ل)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند