• معاشرت >> عورتوں کے مسائل

    سوال نمبر: 167063

    عنوان: عورتوں کے لیے پاوٴں میں پازیب یا انگوٹھی پہننے کا حکم

    سوال: کیا فرماتے ہیں مفتیانِ شرعِ متین کہ عورت پیروں میں سونے یا چاندی کے پازیب یا انگوٹھی پہن سکتی ہے ؟

    جواب نمبر: 16706301-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:125-125/N=3/1440

    جی ہاں! عورت پیروں میں سونے، چاندی کی پازیب یا انگوٹھی پہن سکتی ہے، جائز ہے؛ البتہ غیر مردوں کے سامنے زیور یا اس کی آواز کا اظہار جائز نہیں؛ لہٰذاعورت زیور پہن کر گھر سے باہر نہ نکلے کہ اس کے زیور پر غیر مردوں کی نظر پڑے، نیز بجتا ہوا زیور بھی نہ پہنے (بہشتی زیور مدلل، ۳: ۶۲، مطبوعہ: کتب خانہ اختری متصل مظاہر علوم سہارن پور، امداد الفتاوی۴: ۱۳۷، مطبوعہ: مکتبہ دار العلوم کراچی، کفایت المفتی جدید، ۹: ۱۸۲، ۱۸۳، مطبوعہ: دار الاشاعت کراچی، وغیرہ)۔

    وفي المغني لابن قدامة: یباح للنساء من حلي الذہب والفضة والجواہر کل ما جرت عادتہن یلبسہ کالسوار والخلخال والقرط والخاتم، وما یلبسہ علی وجوہہن، وفي أعناقہن وأیدیہن وأرجلہن وأذانہن وغیرہ۔ (إعلاء السنن، کتاب الحظر والإباحة، باب حرمة الذھب علی الرجال وحلہ للنساء، ۱۷: ۲۸۹، ط: إدارة القرآن والعلوم الإسلامیة، کراتشي، ونقل مثلہ عن شرح المہذب للنواوي أٰیضاً) ۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند