• معاشرت >> عورتوں کے مسائل

    سوال نمبر: 1411

    عنوان:

    ہماری آفس میں مسلم و غیر مسلم دونوں طرح کی عورتیں بھی ہوتی ہیں ۔ کچھ کاموں میں ان سے بات کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ از روئے شریعت اس سلسلے میں کیا کرنا چاہیے؟ منھ بولی بہن اور منھ بولے بھائی کا شریعت میں کیا حکم ہے؟

    سوال:

    ہماری آفس میں مسلم و غیر مسلم دونوں طرح کی عورتیں بھی ہوتی ہیں ۔ کچھ کاموں میں ان سے بات کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ از روئے شریعت اس سلسلے میں کیا کرنا چاہیے؟

    (۲) منھ بولی بہن اور منھ بولے بھائی کا شریعت میں کیا حکم ہے؟

    جواب نمبر: 141101-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 836/ ج= 836/ج

     

    (۱) اجنبیہ عورت سے ضرورت پر نگاہ کی حفاظت کے ساتھ بقدر ضرورت بات کرنے کی گنجائش ہے، لیکن بات کرنے میں نرمی و نزاکت نہ ہو کہ دونوں میں سے کسی کا دل دوسرے کی طرف مائل ہوجائے، بلاضرورت یا ضرورت سے زیادہ بات کرنا جائز نہیں۔

    (۲) کسی کو بھائی بہن بنانے سے مراد اگر دینی بھائی بہن بنانا ہے تو یہ ایک لایعنی اور فضول کام ہے، تمام مسلمان مرد و عورت ایک دوسرے کے دینی بھائی بہن ہیں ہی، بنانے کی کیا ضرورت ہے؟ قال تعالیٰ : ? اِنَّمَا الْمُوٴْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ ? اور اگر حقیقی بھائی بہن بنانا مراد ہے تو یہ جائز نہیں۔ اور اگر کسی نے کسی کو منھ بولا بھائی بہن بنالیا تو وہ احکام میں حقیقی بھائی بہن کے درجہ میں نہ ہوگا، اجنبی ہی رہے گا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند