• معاشرت >> عورتوں کے مسائل

    سوال نمبر: 1300

    عنوان:

    از راہ کرم، عورتوں کے پردے کے متعلق مجھے قرآن کے حوالے سے جواب دیں۔ نیز، قرآن میں میوزک سننے سے کہاں منع کیا گیا ہے؟

    سوال:

    از راہ کرم، عورتوں کے پردے کے متعلق مجھے قرآن کے حوالے سے جواب دیں۔

    نیز، قرآن میں میوزک سننے سے کہاں منع کیا گیا ہے؟

    جواب نمبر: 130001-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    (فتوى:  460/م = 453/م)

     

    (۱) عورتوں کے پردے سے متعلق قرآن کریم میں مختلف آیات ہیں، مثلاً سورہٴ احزاب میں ہے: وَقَرْنَ فِیْ بُیُوْتِکُنَّ وَ لاَ تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاھِلِیَّةِ الْاُوْلٰی (ترجمہ: یعنی بیٹھو اپنے گھروں میں اور زمانہ قدیم کی جاہلیت والیوں کی طرح دکھاتی نہ پھرو، آیت:۳۳) سورہٴ احزاب ہی کی آیت نمبر ۵۹ میں ہے: یَآاَیُّھَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِکَ وَ بَنٰتِکَ وَ نِسَآءِ الْمُوٴْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْھِنَّ مِنْ جَلاَبِیْبِھِنَّ (ترجمہ: یعنی اے نبی! اپنی ازواج مطہرات اور بنات طاہرات کو اور عام مسلمانوں کی عورتوں کو حکم دیں کہ اپنی جلباب استعمال کریں) جلباب ایسی چادر کو کہتے ہیں جس میں عورت سر سے پیر تک مستورہوجائے (روی ذلک عن ابن عباس-رضی اللہ عنہ-)

    (۲) قرآن میں لہو کی باتوں سے منع کیا گیا ہے سورہٴ لقمان میں فرمایا گیا: وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْتَرِیْ لَھْوَ الْحَدِیْثِ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ بِغَیْرِ عِلْمٍ اور جمہور صحابہ و عام مفسرین کے نزدیک لہو الحدیث عام ہے ان تمام چیزوں کو جو انسان کو اللہ کی عبادت اور یاد سے غفلت میں ڈال دے، اس میں غناء مزامیر بھی داخل ہیں، گانا بجانا اور اس کے مشابہ دوسری چیزیں بھی داخل ہیں اس اعتبار سے میوزک کا سننا بھی لہو میں داخل ہے اور حدیث میں صاف اس کی ممانعت منقول ہے: استماع الملاھي معصیة والجلوس علیھا فسق والتلذذ بھا کفر أي بالنعمة ھٰکذا في الشامي۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند