• معاشرت >> عورتوں کے مسائل

    سوال نمبر: 1086

    عنوان:

    میں جاننا چاہتا ہوں کہ از روئے شریعت پردہ کے دوران چہرہ ، ہاتھ اور پیر کا کتنا حصہ کھولنے کی گنجائش ہے؟ عمرہ اور حج کے دوران کیا عورت اپنے چہرہ ، ہتھیلی اور پنجوں کو کھول سکتی ہے؟اس میں کتنی گنجائش ہے؟

    سوال:

    میں جاننا چاہتا ہوں کہ از روئے شریعت پردہ کے دوران چہرہ ، ہاتھ اور پیر کا کتنا حصہ کھولنے کی گنجائش ہے؟ عمرہ اور حج کے دوران کیا عورت اپنے چہرہ ، ہتھیلی اور پنجوں کو کھول سکتی ہے؟اس میں کتنی گنجائش ہے؟

    جواب نمبر: 108601-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    (فتوى:  734/ج = 734/ج) 

     

    عورت اجنبی مردوں کے سامنے چہرہ نہیں کھول سکتی ہے، ہتھیلی اوراس کی پشت اسی طرح ٹخنوں سے نیچے دونوں پیر اگر کھلے ہوئے ہوں تو اس کی گنجائش ہے: قال في الدر مع الرد: 2/79، وتمنع من کشف الوجہ بین الرجال اھ البتہ بوڑھی عورت چہرہ بھی کھول سکتی ہے بشرطیکہ فتنے کا اندیشہ نہ ہو

    حج یا عمرہ کے احرام میں بھی اجنبی مردوں کے سامنے چہرہ کھولنا جائز نہیں؛ لیکن چونکہ احرام میں چہرہ کا چھپانا ممنوع ہے اس لیے سرکے اوپر سے کوئی ایسی چیز لٹکائے جو چہرہ سے نہ لگے اور اس کے ذریعہ پردہ بھی ہوجائے، باقی ہتھیلی اور پنجوں کا حالت احرام میں وہی حکم ہے جو عام حالات میں ہے قال في الرد: 3/497: في البحر عن الغایة: أنھا تغطي وجھھا إجماعًا أي: إنما تستر وجھھا عن الأجانب بإسدال شيء متجاف لا یمسّ الوجہ اھ


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند