• عبادات >> اوقاف ، مساجد و مدارس

    سوال نمبر: 164760

    عنوان: مسجد شرعی کے نیچے مارکیٹ بنانا

    سوال: ہمارے گاؤں میں ایک پرانی مسجد ہے اور اس مسجد کی حالت بہت خراب ہے، یہ کسی وقت بھی گر سکتی ہے، اس لیے میرے چچا نے اس کو دوبارہ تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا اور انہوں نے مسجد کے فلور گراؤنڈ میں مارکیٹ بھی بنانے کا پلان بنایا ہے تاکہ مارکیٹ سے ملنے والے پیسہ سے مسجد کے کام کو آگے بڑھایاجا سکے ، اس لیے گاؤں کے کچھ لوگ ان کی بات سے متفق نہیں ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ایسا کرنا شریعت کی رو سے غلط ہے، اور ممکن ہے کہ مسجد کے معاملے میں میرے چچا اور گاؤں کے لوگوں کے درمیان کہیں لرائی نہ ہوجائے، اس لیے ہمیں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ اس بارے میں شریعت کیا کہتی ہے؟ اس صورت حال میں ہم صرف یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کیا اگر مسجد بہت پرانی ہوجائے اور اس کے گرنے کا خطرہ بڑھ جائے تو کیا ہم اس کی از سرے نو تعمیر کرسکتے ہیں؟کیا اس بارے میں کوئی فتوی ہے؟ براہ کرم، اس بارے میں رہنمائی فرمائیں۔

    جواب نمبر: 16476001-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:17-9T/SD=2/1440

     (۱،۲)مسجد اگر بہت پرانی ہوگئی ہو جس کے گرنے کا اندیشہ ہو، تو محلہ والوں کے لیے اس کی دوبارہ تعمیر کی گنجائش ہے ؛ لیکن مسجد شرعی کے نیچے مارکیٹ بنانا جائز نہیں ہے ، مسجد شرعی نیچے تحت الثری سے آسمان تک مسجد ہی ہوتی ہے ،صورت مسئولہ میں اگر خستہ حالی کی وجہ سے مسجد گرنے کا واقعی اندیشہ ہے ، تو محلہ والوں کے لیے نئی تعمیر کی تو گنجائش ہوگی؛ لیکن مسجد شرعی کے نیچے مارکیٹ بنانا جائز نہیں ہوگا اورتنہا ایک آدمی کے لیے منہدم کرنے کے فیصلے کا اعتبار نہیں ہوگا؛ بلکہ محلہ کے ذمہ داران یا مسجد کی کمیٹی کا فیصلہ معتبر ہوگا ۔

    قال ابن عابدین : قَالَ فِی الْبَحْرِ: وَحَاصِلُہُ أَنَّ شَرْطَ کَوْنِہِ مَسْجِدًا أَنْ یَکُونَ سِفْلُہُ وَعُلُوُّہُ مَسْجِدًا لِیَنْقَطِعَ حَقُّ الْعَبْدِ عَنْہُ لِقَوْلِہِ تَعَالَی ﴿وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّہِ﴾ (الجن: 18)- بِخِلَافِ مَا إذَا کَانَ السِّرْدَابُ وَالْعُلُوُّ مَوْقُوفًا لِمَصَالِحِ الْمَسْجِدِ، فَہُوَ کَسِرْدَابِ بَیْتِ الْمَقْدِسِ ہَذَا ہُوَ ظَاہِرُ الرِّوَایَةِ وَہُنَاکَ رِوَایَاتٌ ضَعِیفَةٌ مَذْکُورَةٌ فِی الْہِدَایَةِ. اہ. .۔ (رد المحتار :۳۵۸/۴، کتاب الوقف، ط: دار الفکر، بیروت) فی الْکُبْرَی مَسْجِدٌ مَبْنِیٌّ أَرَادَ رَجُلٌ أَنْ یَنْقُضَہُ وَیَبْنِیَہُ ثَانِیًا أَحْکَمَ مِنْ الْبِنَاءِ الْأَوَّلِ لَیْسَ لَہُ ذَلِکَ؛ لِأَنَّہُ لَا وِلَایَةٌ لَہُ، کَذَا فِی الْمُضْمَرَاتِ وَفِی النَّوَازِلِ إلَّا أَنْ یَخَافَ أَنْ یَنْہَدِمَ، کَذَا فِی التَّتَارْخَانِیَّة وَتَأْوِیلُہُ إذَا لَمْ یَکُنْ الْبَانِی مِنْ أَہْلِ تِلْکَ الْمَحَلَّةِ وَأَمَّا أَہْلُ تِلْکَ الْمَحَلَّةِ فَلَہُمْ أَنْ یَہْدِمُوا وَیُجَدِّدُوا بِنَائَہُ وَیَفْرِشُوا الْحَصِیرَ وَیُعَلِّقُوا الْقَنَادِیلَ لَکِنْ مِنْ مَالِ أَنْفُسِہِمْ أَمَّا مِنْ مَالِ الْمَسْجِدِ فَلَیْسَ لَہُمْ ذَلِکَ إلَّا بِأَمْرِ الْقَاضِی۔ (الفتاوی الہندیة : ۴۵۷/۲)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند