• عبادات >> اوقاف ، مساجد و مدارس

    سوال نمبر: 163256

    عنوان: وقف ہونے کے بعد اس میں تصرف کا اختیار كسے ہے؟

    سوال: محترم المقام قابل صد احترام جناب مفتی صاحب دامت برکاتہم العالیہ السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ وبعدماھوالمسنون!خیریت خواہ بعافیت عرض خدمت یہ ہے کہ مہاراشٹرکے شولاپورضلع میں واقع عمرڈ نامی گاؤں میں مسجد کے لئے وقف کی ہوئی زمین کے سلسلہ میں گاؤں والوں کے درمیان بہت انتشارہے ،شریعت کی روشنی میں اس کاحل فرماکر عنداللہ مأجورہوں۔ صورت مسئلہ کی تفصیل اس طرح ہے کہ :عمرڈگاؤں میں شاہی دورکی ایک قدیم مسجدہے ،اس دور کے بادشاہ یاحاکم نے مسجدکے اخراجات کے لئے (اوراس دورکی اصطلاح میں مسجدکی عودبتی کے لئے )تقریبا(۶۰)سے (۶۵)ایکڑقابل کاشت زمین وقف کی تھی،تب سے لے کرابتک وہ زمین مسجد کے متولی کے قبضہ میں ہے ،وقف شدہ زمین پرکھیتی کرکے وہ (متولی)کثیرمنافع حاصل کرتے ہیں۔لیکن جب ان سے مسجد کے اخراجات کاتقاضہ کیا جاتاہے تواسے بے جااوربے فائدہ بتاکرکھیتی کی آمدنی میں سے اس مد میں (امام ومؤذن کی تنخواہ،مرمت ،صفائی ،پانی،بجلی کاخرچ وغیرہ)کچھ بھی نہیں دیتے ۔ دیگرمتولیان (جن کے نام تدبیرکرکے سرکاری فہرست سے خارج کردئے گئے ہیں)اوراس بات کاعلم رکھنے والے دیگرلوگوں کاکہناہے کہ وقف شدہ زمین مسجدکی ہے (جوکہ قدیم سرکاری کاغذات مین درج بھی ہے )لہذااس زمین کی آمدنی سے مسجدکے جملہ اخراجات پورے کئے جائیں۔ فی الوقت صورت حال یہ ہے کہ پوری زمین پر گنّے کی فصل تیارکھڑی ہے ،دوسری طرف گاؤں والے اس بات پراڑے ہوئے ہیں کہ ہم مسجد کی زمین کاایک گنّابھی کاٹنے نہیں دیں گے ،اوراس معاملہ میں سرکاری درباری ان کامقابلہ کررہے ہیں۔ مذکورہ مسئلہ میں درپیش جن باتوں کاشرعی حل مطلوب ہے وہ یہ ہیں۔ (۱)وقف شدہ زمین کامالک کون اوراس سے حاصل ہونے والے آمدنی کااختیارکس کورہے گا ؟ (۲)۶۰سے ۶۵ ایکڑزمین پرتیارفصل(جسے گاؤں والے کاٹنے نہیں دیتے ،اوراس کے ضائع ہونے کاقوی امکان ہے )کاحل کیاہو،کس طرح ہواوراقرارکن خطوط وضوابط پرہو؟ (۳)انتشاروافتراق کوختم کرنے کے لئے کیاحکمت عملی اختیارکی جائے ۔کیوں کہ مسئلہ چاہے زمین کاہے لیکن ہزارہادقتوں کے باوجودبھی ممکن ہے خوف خدا کی بنیاد پرحل ہوجائے ۔ (۴)کیاانعامی زمین کامالک انعامدار(فی الحال جومتولی ہے )ہے ؟اگروہ مالک ہے تواس زمین کی آمدنی سے مسجد کاکتناحصہ ہوناچاہیئے کہ جسے مسجد کے اخراجات میں خرچ کیاجاسکے ۔یاپھرمسجد کاکچھ بھی حصہ نہیں ہے ؟ وضاحت فرمائیں۔ اخیر میں آں محترم سے عاجزانہ ومؤدبانہ التماس ہے کہ تحریر میں درپیش کمی کوتاہیوں کوصرف نظرفرماکرشرعی دلائل کی روشنی میں شرعی حل جتناجلدممکن ہوسکے ارسال فرمادیں۔ صورت مسئلہ کے بیان میں اگرکوئی نقص یابہام محسوس ہوتودرج ذیل موبائل نمبرپررابطہ فرمائیں 09922539413 باری تعالی آپ کی محنتوں ،کاوشوں کوقبول فرمائے ۔ازہرہنداوراس کے خوشہ چشموں کوشاداب وآداب رکھے ۔آمین یارب العالمین۔

    جواب نمبر: 16325601-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:1444-1186/D=12/1439

    اگر زمین مسجد پر وقف ہے اور اس کا ثبوت بھی موجود ہے تو وقف شدہ زمین واقف کی ملکیت سے نکل کر اللہ کی ملکیت میں چلی گئی، وقف ہونے کے بعد اس میں تصرف کا اختیار اس شخص کو ہوگا جسے واقف نے اس زمین کا متولی اور نگراں بنایا ہو اور اس تفصیل کے مطابق تصرف کرنے کا اختیار ہوگا جو واقف نے متعین کی ہیں اور اگر تولیت کی کوئی صراحت نہیں ہے تو واقف کے خاندان میں جو اہل ہے وہ اس کا متولی ہوگا اور اگر خاندان میں اہل موجود نہیں تو اہل محلہ اور ذمہ دارانِ مسجد جسے اہل سمجھیں متولی بنادیں، پس صورت مسئولہ میں وقف شدہ زمین متولی کی ملکیت نہیں کہ وہ جس طرح چاہیں تصرف کریں اور وقف سے حاصل ہونے والی آمدنی کو اپنے اخراجات میں خرچ کرنا خیانت ہے جس سے بچنا ہرحال میں ضروری ہے۔

    (۲-۳) گنے کی حفاظت اور اختلاف وانتشار ختم کرنے کے لیے گاوٴں کے سرکردہ حضرات متولی کے پاس جاکر سمجھائیں اور اس پر دباوٴ ڈالیں کہ وہ اللہ سے ڈرے اور آمدنی کو صحیح مصرف میں خرچ کرے۔

    (۴) جیسا کہ اوپر گزرا کہ متولی وقف شدہ زمین کا مالک نہیں ہوتا لہٰذا خود ہی آمدنی میں سے کچھ رکھ لینا جائز نہیں البتہ کمیٹی کے افراد اگر بقدر محنت اس کی کچھ تنخوہ متعین کردیں تو متعینہ مقدار لینے کی گنجائش ہے، بقیہ آمدنی مسجد کے جائز مصارف اور ضروری اخراجات میں خرچ کیے جائیں گے پھر بھی اگر کچھ بچتا ہے تو اسے محفوظ رکھا جائے گا۔

    وعندہما ہو حبسہا علی حکم ملک اللہ تعالی وصرف منفعتہا علی من أحبّ ولو غنیا فیلزم․ (درمختار: ۶/ ۵۲۰، زکریا) ولایة نصب القیم إلی الواقف ثم لوصیہ ثم للقاضي وما دام أحد یصلح للتولیة من أقارب الوقف لا یجعل المتولي من الأجانب لأنہ أشفق ومن قصدہ نسبة الوقف إلیہم، قال الشامي: ثم ذکر من التاتارخانیة ما حاصلہ أن أہل المسجد لو اتفقوا علی نصب رجل متولیا لمصالح المسجد فعند المتقدمین یصحّ ولکن الأفضل کونہ بإذن القاضي․ (الدر مع الرد: ۶/ ۵۶۶، زکریا) ویخدخل في وقف المصالح قیم: إمام وخطیب والموٴذن یعبر (شامي: ۶/ ۵۶۶)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند