• عبادات >> اوقاف ، مساجد و مدارس

    سوال نمبر: 1380

    عنوان:

    ہم ایک کثیر منزلہ عمارت کی تعمیر کررہے ہیں۔ ایک مسجد کے علاوہ اس جگہ پر موجود پہلے کی ساری تعمیرات منہدم کردی گئیں،مسجد اب بھی وہاں موجود ہے۔ نئے نقشے میں مسجد راستے پر آرہی ہے۔ ہم نے ٹنڈر جاری کردیے ہیں۔ اس پروجکٹ کے لیے ایک انٹرنیشنل کمپنی کو منتخب کیا گیا ہے۔ اس مرحلے میں آکر ہم اس پروجکٹ کو دوبارہ ڈیزائن نہیں کرواسکتے۔ سوال یہ ہے کہ کیا قرآن و سنت کے مطابق اس مسجد کو گراسکتے ہیں؟ (۱) کیوں کہ اس مسجد میں گذشتہ ایک سال سے مستقل کوئی نماز نہیں ہورہی ہے۔(۲) ہم نے بلڈنگ میں پانچ نمازگاہوں کی گنجائش رکھی ہے جو ملا کر مسجد کی زمین سے زیادہ جگہ لیے ہوئے ہیں۔ (۳) کیا ہم موجودہ ڈیزائن کے مطابق ستونوں پر مسجد بناسکتے ہیں اس طور پر کہ راستہ اس سے گذرے اور اوپر والے حصوں میں نماز ہو؟ واضح رہے کہ یہ زمین مسجد کے لیے وقف ہے۔

    سوال:

    ہم ایک کثیر منزلہ عمارت کی تعمیر کررہے ہیں۔ ایک مسجد کے علاوہ اس جگہ پر موجود پہلے کی ساری تعمیرات منہدم کردی گئیں،مسجد اب بھی وہاں موجود ہے۔ نئے نقشے میں مسجد راستے پر آرہی ہے۔ ہم نے ٹنڈر جاری کردیے ہیں۔ اس پروجکٹ کے لیے ایک انٹرنیشنل کمپنی کو منتخب کیا گیا ہے۔ اس مرحلے میں آکر ہم اس پروجکٹ کو دوبارہ ڈیزائن نہیں کرواسکتے۔ سوال یہ ہے کہ کیا قرآن و سنت کے مطابق اس مسجد کو گراسکتے ہیں؟ (۱) کیوں کہ اس مسجد میں گذشتہ ایک سال سے مستقل کوئی نماز نہیں ہورہی ہے۔(۲) ہم نے بلڈنگ میں پانچ نمازگاہوں کی گنجائش رکھی ہے جو ملا کر مسجد کی زمین سے زیادہ جگہ لیے ہوئے ہیں۔ (۳) کیا ہم موجودہ ڈیزائن کے مطابق ستونوں پر مسجد بناسکتے ہیں اس طور پر کہ راستہ اس سے گذرے اور اوپر والے حصوں میں نماز ہو؟ واضح رہے کہ یہ زمین مسجد کے لیے وقف ہے۔

    جواب نمبر: 138001-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 481/ م= 473/م

     

    جو جگہ ایک دفعہ مسجد ہوجاتی ہے وہ ہمیشہ کے لیے مسجد ہوجاتی ہے، خواہ اس میں نماز نہ ہوتی ہو ?لأن الفتویٰ علی تأبید المسجد? اس لیے اس مسجد کو گرانا اور اس کی مسجدیت کو باطل کرنا جائز نہیں، اس کو علی حالہ مسجد باقی رکھنا ضروری ہے، خواہ اس بلڈنگ میں نئی نماز گاہوں کی گنجائش نکل آئی ہو۔ اور موجودہ ڈیزائن کے مطابق ستونوں پر اس طرح مسجد بنانا کہ نیچے سے گذرگاہ ہو اور اوپر والے حصے میں نماز ہو وہ مسجد شرعی نہیں ہوگی، بلکہ وہ حصہ محض جماعت خانہ کہلائے گا، اس میں مسجد کا ثواب نہیں ہوگا، اس لیے کہ مسجد شرعی وہ ہے جو تحت الثری سے آسمان تک مسجد ہو کما في الشامي وغیرہ۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند