• عبادات >> اوقاف ، مساجد و مدارس

    سوال نمبر: 1159

    عنوان:

    ہم پوچھنا چاہتے ہیں کہ ایک مسجد کا سامان مثلاً لوٹا، صف، پنکھا، سیڑھی، تسلہ وغیرہ دوسری مسجد میں استعمال کرسکتے ہیں؟ مسجد کے چندے کا پیسہ اگر ہمارے پاس ہے توکیا کسی ضرورت سے ہم ایک دن یا ایک گھنٹے کے لیے اسے خرچ کرسکتے ہیں؟ اور پھر بعد میں جب ہمارے پاس پیسہ آجائے اور وہ پیسہ ہم چندے میں رکھ دیں تو کیا یہ جائز ہے؟

    سوال:

     (1) ہم پوچھنا چاہتے ہیں کہ ایک مسجد کا سامان مثلاً لوٹا، صف، پنکھا، سیڑھی، تسلہ وغیرہ دوسری مسجد میں استعمال کرسکتے ہیں؟رہ نمائی فرمائیں۔

     

    (2) مسجد کے چندے کا پیسہ اگر ہمارے پاس ہے توکیا کسی ضرورت سے ہم ایک دن یا ایک گھنٹے کے لیے اسے خرچ کرسکتے ہیں؟ اور پھر بعد میں جب ہمارے پاس پیسہ آجائے اور وہ پیسہ ہم چندے میں رکھ دیں تو کیا یہ جائز ہے؟ رہ نمائی فرمائیں۔

    جواب نمبر: 115901-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    (فتوى:  387/م = 384/م)

     

    (1) اگر مذکورہ سامان مسجد کی ضرورت سے زائد ہو نیز اپنی مسجد میں اس کی حفاظت کی کوئی صورت نہ ہو اور ضائع ہونے کا اندیشہ ہو تو ایسی صورت میں متولی صاحب یا مسجد کمیٹی کے مشورے سے ایسی مسجد میں قیمتاً منتقل کرسکتے ہیں جہاں اس کی ضرورت ہو، ھکذا في الفتاوی المحمودیة في المجلد الخامس عشر، باب أحکام المساجد۔

     

    (2) جائز نہیں ہے۔ (المصدر السابق)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند