• متفرقات >> تصوف

    سوال نمبر: 174649

    عنوان: جنسی جذبات پر كیسے قابو پایا جائے

    سوال: میں ایک اٹھائیس سال کی غیر شادی شدہ لڑکی ہوں۔ پچھلے کچھ عرصے سے مجھے اپنے جنسی جذبات پر قابو نہیں رہتا ہے۔ کبھی کبھی تو کئی کئی دن گزر جاتے ہیں اور کچھ نہیں ہوتا اور کبھی کبھی ایک ایک پل گزارنا مشکل ہو جاتا ہے۔ میرا خود پر اختیار نہیں رہتا اور پھر میرا دل کرتا ہے کہ میں مباشرت کروں۔ لیکن میں زنا کی حرمت کو جانتی ہوں اس لیے کوئی ایسا قدم نہیں اٹھا سکتی۔ جب یہ جنسی جذبات بڑھ جاتے ہیں تو پھر میں اپنی فرج کو مسل دیتی ہوں اور اس کی وجہ سے سیکسی کہانیوں کی عادت میں مبتلا ہو چکی ہوں۔ اگر ایسا نہ کروں تو پھر میں ذہنی اور جسمانی طور پر پریشان رہتی ہوں۔ غصہ بہت آتا ہے اور ٹانگوں میں درد بہت ہوتا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ فرج میں جلن اور درد بھی۔ جسم اکڑ جاتا ہے اور کسی کام میں دل نہیں لگتا اور پھر میں یہ حرکت کر جاتی ہوں۔ اس کے بعد جسم تو نارمل ہو جاتا ہے لیکن ذہن میں ایک جنگ جاری رہتی ہے اور میں اپنی بے بسی پر رو دیتی ہوں کہ میں کس گناہ میں پڑ چکی ہوں۔ مجھے خود پر اختیار کیوں نہیں رہتا۔ میں جانتی ہوں کہ اس کا حل شادی ہے لیکن یہ بھی تو میرے اختیار میں نہیں ہے۔ میرا تعلق اس معاشرے سے ہے جہاں لڑکی کا خود سے شادی کا کہنا بے حیائی سمجھا جاتا ہے۔ اور اسے بدچلن کہا جاتا ہے۔ براہ مہربانی رہنمائی کیجیئے کہ اس سب عمل کے دوران نکلنے والا پانی ناپاک کر جاتا ہے کیا؟ پانی کا رنگ سفید اور بے بو ہوتا ہے۔ اگر نہ بھی کروں تو بھی پانی کے قطرے نکل آتے ہیں جو اکثر بے رنگ اور بے بو ہوتے ہیں۔ براہ مہربانی رہنمائی کیجیئے شکریہ

    جواب نمبر: 17464901-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:309-284/L=4/1441

    جنسی جذبات پر قابو پانے کے لیے اولا آپ ہمت سے کام لیں اورروزہ کی کثرت کریں،حدیث شریف میں اس کا علاج روزہ کو لازم پکڑنا مذکور ہے ،اس کے علاوہ آپ فارغ اوقات میں غلط خیالات لے جانے یا سیکسی کہانیوں کے پڑھنے کے بجائے اپنے آپ کو ذکر تلاوت اور دینی کتابوں کے مطالعہ میں مشغول رکھیں اور اگر کبھی غلط خیالات آجائیں تو اللہ کے وعیدوں کا استحضار کریں نیز عشا کی نماز کے بعد اول وآخر گیارہ گیارہ مرتبہ درود شریف پڑھ کر گیارہ سو گیارہ مرتبہ ”یا ودود“ پڑھ لیا کریں ان شاء اللہ جلد شادی کا انتظام ہوجائے گا ۔جہاں تک اس عمل کے دوران نکلنے والی رطوبت کا مسئلہ ہے تو اگر شہوت کے ساتھ وہ رطوبت نکلتی ہے اور اس کے بعد اعضاء ڈھیلے پڑجاتے ہیں تو وہ منی ہے اس کے بعد غسل کرنا ضروری ہوجاتا ہے ،اس کے علاوہ جو رطوبت بلا شہوت نکلتی رہتی ہے وہ نجس ہے کپڑے یا بدن کے جس جگہ پر لگ جائے اس کا دھونا ضروری ہوتا ہے؛ لیکن اس کے نکلنے سے غسل واجب نہیں ہوتا۔ ومن وراء باطن الفرج فإنہ نجس قطعاً ککل خارج من الباطن کالماء الخارج مع الولد أو قُبَیْلہ الخ کما فی ردالمحتار


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند