• متفرقات >> تصوف

    سوال نمبر: 173337

    عنوان: كثرت كلام بہت سے فتنوں اور گناہوں كا سبب ہے؟

    سوال: امید ہے مزاج بخیر ہوں گے۔ مولانا برائے مہربانی میری ایک پریشانی دور فرمائیں۔ میں کم گو انسان ہوں ۔ بہت نہیں۔ لیکن ضرورت اتنی یااس کے کچھ زیادہ باتیں کرنے کا عادی ہوں۔ لایعنیٰ باتوں سے بہت پرہیز کرتا ہوں بلکہ عادت ہی نہیں۔ بہت پہلے ۴-۳ مرتبہ جماعتوں میں جاچکا ہوں تو وہاں بھی لایعنیٰ باتوں پر بہت سن چکا ہوں اس لئے بھی اور بچپن سے ہی میں فضول باتیں نہیں کرتا بلکہ کم کہتا ہوں یا خاموش رہتا ہوں۔ میری بیگم جو ہر لحاظ سے بہت سمجھدار اور بہت محنتی ہے فرمانبردار بھی۔......... لیکن ایک عادت اس کی یہ سب سے بری ہے کہ وہ بہت بلکہ بے انتہا فضول باتیں کرتی ہے۔ اتی کہ دن میں کبھی کبھار ہی خاموش رہتی ہے۔ اور روزانہ گاوں ان کی والدہ ہو کہ رشتہ دار یا پھر میری بہنوں سے جب باتیں کرنا ہوتو ایک دیڑھ گھنٹے سے کم پر بات پوری ہوتی ہی نہیں۔ میں منع کرتا ہوں ڈانٹتا ہوں کہ ہر لفظ کی پکڑ ہوگی۔ تو الٹ جواب ملتا ہے حالانکہ بحث نہیں ہوتی کہتی ہے کہ ایسا کہیں حدیث میں باتیں کرنے پر گناہ ہوگا لکھا نہیں ہے۔ پوچھی گئی ہر بات کا جواب وہ مفصل ترین انداز میں مکمل تقریر کی طرح دے ڈالتی ہے۔ اس عادت سے بہت پریشان ہوں۔ کسی طرح سے عادت چھوٹ نہیں رہی ہے۔ وہ کہتی ہے کہ کوئی ثبوت قران حدیث سے دکھاو تو اسی وقت سے باتیں کم کرونگی۔ یہ حقیقت بھی ہے کہ قران حدیث کی کوئی بات جب وہ خود کہیں سے پڑھتی ہے تو پابندی سے مانتی بھی ہے۔ اسے لئے برائے مہربانی لایعنی باتوں پر احادیث یا وعیدیں آئی ہوں تو برائے مہربانی سبھی کہ سبھی لکھ دیں۔ ساتھ ہی ساتھ لایعنی فضول باتوں پر لکھی گئی کوئی معتبر کتاب جو مہاراشٹرا یا بھیونڈی میں مل سکتی ہو تو وہ بھی بتائیں۔ تاکہ جلد از جلد اس کو خرید لوں میں بھی پڑھوں اور بیگم کو بھی پڑھاوں۔ برائے مہربانی جلد جواب دیں نوازش ہوگی۔ شکریہ

    جواب نمبر: 17333701-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 142-19T/B=02/1441

    عام طور پر کثرت کلام بہت سارے فتنوں اور گناہوں کا سبب بنتا ہے اور اچھا خاصا وقت بغیر کسی دینی یا دنیوی فائدے کے ضائع ہو جاتا ہے، حدیث میں ہے ”من حسن إسلام المرء ترکہ مالا یعنیہ“ (الترمذي: ۲۳۱۷) انسان کے اسلام کی خوبی لایعنی چیزوں کو ترک کر دینا ہے۔ اور قرآن وحدیث میں کم بولنے کی بہت تاکید آئی ہے، قرآن میں ہے ”ما یلفظ من قول إلاّ لدیہ رقیب عتید“ (ق: ۱۸) انسان جو بات بھی بولتا ہے ایک نگہبان و تیار فرشتہ اس کو نوٹ کرتا رہتا ہے۔ حدیث میں ہے ”من صمت نجا“ (ترمذي: ۲۵۰۱) جو خاموش رہا وہ نجات پاگیا۔ ایک دوسری حدیث میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص میرے لئے زبان اور شرمگاہ کی ضمانت لے لے میں اس کے لئے جنت کی ضمانت لیتا ہوں۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا کہ فلانی عورت رات بھر نماز پڑھتی ہے اور دن کوروزہ رکھتی ہے؛ لیکن اپنے پڑوسی کو زبان سے تکلیف بھی پہونچاتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ جہنمی ہے، (أخرجہ أحمد: ۹۶۷۵)۔

    اس طرح اور بہت ساری احادیث میں وعید آئی ہیں؛ اس لئے آپ کی بیوی اگر بہت زیادہ بولتی ہے تو اسے خاموش رہنے کی عادت ڈالنی چاہئے تاکہ لایعنی باتوں میں مشغول ہونے اور برائی، فتنے اور گناہ سے محفوظ رہے۔ اور آپ کی ذمہ داری ہے کہ حکمت کے ساتھ بیوی کو خیر کی باتیں موقع بموقع بتاتے رہیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند