• متفرقات >> تصوف

    سوال نمبر: 172813

    عنوان: بیعت کے سلسلے میں اکابرین کی رائے کا طالب

    سوال: حضرات اکابرین کا اس سلسلے میں مشورہ کی بندہ کو اشد ضرورت ہے ، بندہ ناچیز بنگلور کا باشندہ ہے ، اور احقر کی زندگی، ملک کے ایک معروف علمی و روحانی شخصیت شاہ ملت حضرت مولانا سید انظر شاہ صاحب قاسمی بنگلوری دامت برکاتہم کا بیانات کے ذریعہ راہ راست پر آئی اور میں دین سے جڑا۔ حضرت کے بیانات نے مجھے گناہوں کے راستے سے نکال کر نیکی کی راہ دکھائی۔ میں اب ایک کامل شیخ کی تلاش میں تھا تو معلوم ہوا کہ حضرت والا کو سلسلہ نقشبندیہ و مجددیہ سے خلافت حاصل ہے ۔ میرے بڑوں، والدین اور دوست و احباب سے مشورہ کیا تو انہوں نے حضرت سے ہی بیعت کا مشورہ دیا کیونکہ میری زندگی انہیں کی وجہ سے بدلی ہے اور میرا دل اور دماغ بھی وہی کہ رہا ہے ۔ میں نے سوچا کہ آپ حضرات کی بھی ایک بار رائے لے لی جائے ۔ براہ کرم میری رہنمائی فرمائیں۔ حضرت شاہ ملت مدظلہ قائد الاحرار حضرت مولانا حبیب الرحمن ثانی لدھیانوی دامت برکاتہم کے خلیفہ اجل ہیں اور جانشین شیخ الاسلام حضرت مولانا سید ارشد مدنی صاحب دامت برکاتہم کے شاگرد خاص اور تربیت یافتہ، ایک بیان میں حضرت نے خود فرمایا تھا کہ مولانا مدنی نے ہی ان کی پڑھائی کے خرچ کو برداشت کیا اور اپنے ساتھ رکھتے ہوئے تعلیم کے ساتھ مکمل تربیت بھی کی۔

    جواب نمبر: 17281301-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 1503-1273/L=12/1440

    اگر آپ کا قلبی رجحان ان کی طرف ہے تو ان سے بیعت ہو سکتے ہیں، بیعت ہونے میں قلبی اعتقاد کا بڑا دخل ہے اور بہتر ہے کہ بیعت ہونے سے پہلے کچھ ایام ان کی صحبت میں گذار لیں تاکہ مزید انشراح ہو جائے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند