• متفرقات >> تصوف

    سوال نمبر: 172338

    عنوان: کثرت ذکر سے کیا مراد ہے؟ یعنی كتنے وقت یا كتنی تعداد میں ذكر كرنا چاہیے؟

    سوال: قرآن و احادیث میں کثرت سے ذکر کرنے سے کیا مراد کتنی دفعہ کم از کم ذکر کرنے سے کثرت ذکر مراد ہے؟

    جواب نمبر: 17233801-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:1405-1227/L=1/1441

    کثرتِ ذکر سے مرادحد درجہ ذکر سے اشتغال اور ہرحال میں(کھڑے ،بیٹھے اور لیٹے ) اللہ رب العزت کاذکر کرنا ہے ،شریعت نے اس کی کوئی تحدید نہیں کی ہے ۔

    وقال مجاہد: لا یکون العبد من الذاکرین اللہ کثیرا حتی یذکر اللہ قائما وقاعدا ومضطجعا.(تفسیر ابن کثیر ط العلمیة 8/ 148، الناشر: دار الکتب العلمیة، منشورات محمد علی بیضون - بیروت) وقال علی بن أبی طلحة عن ابن عباس رضی اللہ عنہما فی قولہ تعالی: اذکروا اللہ ذکرا کثیرا إن اللہ تعالی لم یفرض علی عبادہ فریضة إلا جعل لہا حدا معلوما، ثم عذر أہلہا فی حال العذر غیر الذکر، فإن اللہ تعالی لم یجعل لہ حدا ینتہی إلیہ، ولم یعذر أحدا فی ترکہ إلا مغلوبا علی ترکہ، فقال: فاذکروا اللہ قیاما وقعودا وعلی جنوبکم (النساء: 103) باللیل والنہار فی البر والبحر، وفی السفر والحضر، والغنی والفقر، والسقم والصحة، والسر والعلانیة، وعلی کل حال. وقال عز وجل: وسبحوہ بکرة وأصیلا فإذا فعلتم ذلک صلی علیکم ہو وملائکتہ، والأحادیث والآیات والآثار فی الحث علی ذکر اللہ تعالی کثیرة جدا، وفی ہذہ الآیة الکریمة الحث علی الإکثار من ذلک.(تفسیر ابن کثیر ط العلمیة 6/ 386، الناشر: دار الکتب العلمیة، منشورات محمد علی بیضون - بیروت)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند