• متفرقات >> تصوف

    سوال نمبر: 171694

    عنوان: ایسے وساوس كا آنا جن كو بیان نہیں كیا جاسكتا كس بات كی علامت ہے؟

    سوال: جناب سوال یہ ہے کہ مجھے ہر وقت ایسا لگتا ہے کہ میں کافر ہوا ہوں اور پھر فوراً بعد میں کلمہ طیبہ کی ورد کرتا ہوں اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بھی بہت غلط وساوس آتے ہیں جو میں زبان سے بیان نہیں کر سکتا حالانکہ میں نماز اور روزانہ تلاوت قرآن پاک بھی کرتا ہوں علماء کے بیانات بھی سنتا ہوں لیکن پھر بھی وساوس آتے ہیں ، اب میں کیا کروں کیا یہ علامات ایمان کی کمزوری ہے تفصیل سے بیان کیا جائے ۔

    جواب نمبر: 17169401-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 1108-969/D=11/1440

    شیطان وساوس کے ذریعہ ہر صاحب ایمان کو پریشان کرتا اور اس کے ایمان کو غارت کرنا چاہتا ہے۔ حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بھی وساوس نے پریشان کیا جس کا بیان انہوں نے ان الفاظ میں کیا إنی أحدث فی نفسی بالشیء لان اکون حُمَمَةً أحب إلیّ من أن أتکلم بہ الحدیث ۔ ترجمہ: کسی چیز کے بارے میں میرے دل میں ایسی بات آتی ہے کہ میں جَل کر کوئلہ ہو جاوٴں یہ مجھے زیادہ پسند ہے اس سے کہ میں وہ بات زبان پر لاوٴں۔ (مشکاة ، ص: ۱۹)

    وفی حدیث آخر: إنا نجد فی أنفسنا ما یتعاظم أحدنا أن یتکلم بہ ، قال: أو قد وجدتموہ؟ قالوا نعم! قال: ذاک صریح الایمان ۔ ترجمہ: ہمارے دل میں ایسے خیالات آتے ہیں جس کا زبان پر لانا ہم بہت بڑی بات سمجھتے ہیں ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ بات تو صاف ایمان کی دلیل ہے (مشکاة ، ص: ۱۸)

    اس طرح وساوس اگر حدیث النفس کے طور پر ہیں تو وہ معاف ہیں۔ لقولہعلیہ السلام: إن اللہ تجاوز عن أمتی ما وسوست بہ صدورہا مالم تعمل بہ أو تتکلم ۔ ترجمہ: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بلاشبہ اللہ تعالی نے ان باتوں کو میری امت سے معاف فرما دیا جو وسوسے کے طور پر ان کے دلوں میں آتی ہیں جب تک ان پر عمل نہ ہو یا زبان سے نہ کہے۔ متفق علیہ۔ (مشکاة ، ص: ۱۸)

    وساوس کا آنا خود ایمان کی دلیل ہے : لان اللص لایدخل البیت الخالی قال فی الہندیة: من خطر بقلبہ مایوجب الکفر، إن تکلم بہ ، وہو کارہ لذالک ، فذالک محض الایمان ۔ (ص: ۲۸۳/۲)

    ترجمہ: جس کے دل میں ایسے خیالات آئیں کہ ان کا زبان پر لانا کفر ہے ، مگر یہ شخص ان بُرے خیالات کو ناپسند کرتا ہو تو یہ صاف ایمان کی علامت ہے۔ لہٰذا آپ مطمئن رہیں ان وساوس کی طرف دھیان نہ دیں اعمال صالحہ میں کوشش کریں برائیوں سے بچیں خالی اوقات کو مباح اور نیکی کے کاموں میں مصروف رکھیں، لایعنی سے پرہیز کریں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند