• عقائد و ایمانیات >> تقلید ائمہ ومسالک

    سوال نمبر: 172730

    عنوان: کیا میں دوسرے مسلك كے امام کے پیچھے نماز پڑھ سکتا

    سوال: مولوی صاحب میں( گلف دبئی ) عرب میں ملازمت کر رہا ہوں۔مجھے پتا نہیں کہ یہ لوگ کس امام کی تقلید کرتے ہیں۔ان کے نماز کے اوقات بالکل الگ ہیں ۔ نماز مین ہر تکبیر پر رفع دین کرتے ہیں۔عقائد بھی الگ ہیں، میں امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی تقلید کرتا ہوں، کیا مین نماز ان اماموں کے پیچھے پڑھ سکتا ہوں؟اور جمعہ کی نماز کا مجھ پر کیا حکم ہے ؟ براہ کرم، تفصیل سے رہنمائی اور رہبری فرمائیں۔اور میری ترقی کے لیے دعا کریں۔

    جواب نمبر: 17273001-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 1181-1048/D=12/1440

    عقائد میں آپ ان سے تعرض نہ کریں، نہ ہی مباحثہ کریں، تعلیم الاسلام اور دیگر معتبر علماء کی کتابوں میں جو عقائد بیان کیے گئے ہیں آپ ان پر قائم رہیں؛ البتہ ان کے اماموں کے پیچھے نماز پڑھ سکتے اور جمعہ بھی پڑھ سکتے ہیں، ہاں اگر کبھی آپ کو پتہ چلے کہ امام ایسی بات پیش آنے کے باوجود نماز پڑھا رہا ہے جس سے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک نماز نہیں ہوتی (مثلاً خون نکلنا یا الٹی کرنا جوکہ ناقض وضو ہے یا سوتی موزوں پر مسح کرنا جس سے وضو ہی درست نہیں ہوتی) تو ایسی صورت میں آپ کہیں اور نماز پڑھیں یا اپنی پڑھ لیں۔ اللہ تعالی آپ کو دین و دنیا کی ترقی عطا فرمائے۔

    فی رد المحتار: وفي حاشیة الأشباہ للخیر الرملي: الذي یمیل إلیہ خاطري: القول بعدم الکراہة إذا لم یتحقق منہ مفسد أھ ۔ وفیہ قبلہ: ثم المواضع المہمة للمراعاة أن یتوضأ من الفصد والحجامة والقيء والرعاف ونحو ذلک ، لافیما ہو سنة عندہ مکروہ عندنا کرفع الیدین الخ (۲/۳۰۳، ط: زکریا ، باب الإمامة) ۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند