• عقائد و ایمانیات >> تقلید ائمہ ومسالک

    سوال نمبر: 168062

    عنوان: عامی کے لیے مسلک کی تبدیلی کا حکم

    سوال: کیا کسی شخص جو کہ حنفی ہو اس کے لیے جائز ہے کہ وہ کسی دوسری حدیث یا دوسرے امام کے مسلہ پر عمل کرے یا کروائے جبکہ وہ نا ہی عالم اور نا ہی مفتی ہے ؟

    جواب نمبر: 16806201-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:473-467/N=6/1440

    عامی شخص کے لیے کلی یاجزوی طور پر مسلک بدلنا درست نہیں ، اسے اپنے امام ہی کے مسلک پر یا ان کی تشریح کے مطابق ہی قرآن وسنت پر عمل کرنا ضروری ہے۔ اور اگر کوئی شخص با صلاحیت عالم دین یا مفتی ہو اور دلائل شرع پر گہری نظر اور بصیرت تامہ بھی رکھتا ہو، وہ اگر دلائل کی روشنی میں کسی دوسرے امام کے مسلک کو راجح وقوی سمجھتا ہے تو اس کے لیے مسلک بدلنا جائز ہے۔

    قولہ: ”ارتحل إلی مذہب الشافعی یعزر“ أی: إذا کان ارتحالہ لا لغرض محمود شرعاً لما فی التاترخانیة: حکي أن رجلاً من أصحاب أبي حنیفة خطب إلی رجل من أصحاب الحدیث ابنتہ في عھد أبي بکر الجوزجاني فأبی إلا أن یترک مذھبہ فیقرأ خلف الإمام ویرفع یدیہ عند الانحطاط ونحو ذلک فأجابہ فزوجہ فقال الشیخ بعد ما سئل عن ھذا وأطرق رأسہ: النکاح جائز ولکن أخاف أن یذھب إیمانہ وقت النزع؛ لأنہ استخف بمذھبہ الذي ھو حق عندہ وترہ لأجل جیفة منتنة ، ولو أن رجلا بریٴ من مذہبہ باجتہاد وضح لہ کان محمودا مأجورا، أما انتقال غیرہ من غیر دلیل بل لما یرغب من عرض الدنیا وشہوتہا فہو المذموم الآثم المستوجب للتأدیب والتعزیر لارتکابہ المنکر فی الدین واستخفافہ بدینہ ومذہبہ اہ ملخصاً (رد المحتار،کتاب الحدود، باب التعزیر، ۶: ۱۳۲، ط: مکتبة زکریا دیوبند)، فی القنیة رامزا لبعض کتب المذہب: لیس للعامي أن یتحول من مذہب إلی مذہب، ویستوی فیہ الحنفی والشافعی (المصدر السابق، ص ۱۳۳)، وانظر الدر والرد (کتاب الشہادات، باب القبول وعدمہ ۸: ۲۰۰) أیضاً۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند