• معاشرت >> طلاق و خلع

    سوال نمبر: 907

    عنوان:

    میں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ہے، ہمارا ایک بچہ ہے جو اپنی ماں کے ساتھ رہتا ہے۔ اس وقت وہ دو سال کا ہے۔ ہمارے گھر کے بڑوں نے فیصلہ کیا تھا کہ میں اس بچہ کی دیکھ بھال کے لیے ماہانہ ایک مقدار رقم دیتا رہوں گا۔ الحمد للہ ، یہ رقم میں پابندی سے بھیج رہا ہوں اور اس کی ماں کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کردیتا ہوں کیوں کہ میں مشرق وسطی میں رہتا ہوں۔ کیا ایسا کرنا درست ہے؟ یا بچہ کا علیحدہ اکاؤنٹ بنوانے کا مطالبہ کروں اور اس میں بھیجوں ؟ نیز، بچہ کی عمر سات سال ہوجانے کے بعد اگر اس کی ماں اسے واپس کرنے پر راضی نہ ہو تو کیا حکم ہے؟

    سوال:

    (1) میں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ہے، ہمارا ایک بچہ ہے جو اپنی ماں کے ساتھ رہتا ہے۔ اس وقت وہ دو سال کا ہے۔ ہمارے گھر کے بڑوں نے فیصلہ کیا تھا کہ میں اس بچہ کی دیکھ بھال کے لیے ماہانہ ایک مقدار رقم دیتا رہوں گا۔ الحمد للہ ، یہ رقم میں پابندی سے بھیج رہا ہوں اور اس کی ماں کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کردیتا ہوں کیوں کہ میں مشرق وسطی میں رہتا ہوں۔ کیا ایسا کرنا درست ہے؟ یا بچہ کا علیحدہ اکاؤنٹ بنوانے کا مطالبہ کروں اور اس میں بھیجوں ؟

     

    (2) نیز، بچہ کی عمر سات سال ہوجانے کے بعد اگر اس کی ماں اسے واپس کرنے پر راضی نہ ہو تو کیا حکم ہے؟

    جواب نمبر: 90701-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    (فتوى:  993/هـ = 792/هـ)

     

    (1) مصلحت پر تو آپ غور کرلیں بہتر یہ ہے کہ بچہ کے خرچہ کا اکاوٴنٹ الگ بنوادیں تاکہ بعد میں کوئی نزاع نہ ہو۔

     

    (2) قانونی چارہ جوئی کرکے آپ کو اپنی تربیت میں بچہ کو لے لینے کا شریعت مطہرہ نے حق دیا ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند