• معاشرت >> طلاق و خلع

    سوال نمبر: 427

    عنوان:

    میرا ایک دوست ایک غلطی کر کے سخت پریشان ہے۔ وہ جس لڑکی سے شادی کرنا چاہتا تھا اس کی شادی اس کے ساتھ نہیں ہوسکی بلکہ اس لڑکی کی بڑی بہن سے ہوگئی۔ شادی کے بعد بھی وہ اور سالی ملتے رہے مگر انھوں نے کوئی غلط حرکت نہیں کی۔ اب مجھے میرے دوست نے کہا کہ میں نے اپنی سالی (یعنی جس سے وہ شادی کرنا چاہتا تھا) کو جذبات میں آکر بوسہ دیدیا اور کچھ غلط حرکت بھی کی ہے ، مگر زنا نہیں کیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح کرنے سے اس کا نکاح اپنی بیوی سے ختم ہوگیا ہے؟ اس کی بیوی نے دونوں کو یہ حرکت کرتے دیکھ لیا تھا۔ وہ کہتی ہے کہ اس سے خود بخود طلاق ہوگئی۔ کیا واقعی ایسا ہے؟

    سوال:

    میرا ایک دوست ایک غلطی کر کے سخت پریشان ہے۔ وہ جس لڑکی سے شادی کرنا چاہتا تھا اس کی شادی اس کے ساتھ نہیں ہوسکی بلکہ اس لڑکی کی بڑی بہن سے ہوگئی۔ شادی کے بعد بھی وہ اور سالی ملتے رہے مگر انھوں نے کوئی غلط حرکت نہیں کی۔ اب مجھے میرے دوست نے کہا کہ میں نے اپنی سالی (یعنی جس سے وہ شادی کرنا چاہتا تھا) کو جذبات میں آکر بوسہ دیدیا اور کچھ غلط حرکت بھی کی ہے ، مگر زنا نہیں کیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح کرنے سے اس کا نکاح اپنی بیوی سے ختم ہوگیا ہے؟ اس کی بیوی نے دونوں کو یہ حرکت کرتے دیکھ لیا تھا۔ وہ کہتی ہے کہ اس سے خود بخود طلاق ہوگئی۔ کیا واقعی ایسا ہے؟ براہ کرم، جلدی جواب عنایت فرمائیں۔

    جواب نمبر: 42701-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    (فتوى: 190/ل=190/ل)

     

    اس سے طلاق واقع نہیں ہوئی، بلکہ اس کی بیوی بدستور اس کے نکاح میں باقی ہے، البتہ سالی کے ساتھ اس طرح کا معاملہ کرنا سخت گناہ ہے، اس سے توبہ واستغفار اور آئندہ پردہ ضروری ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند