• معاشرت >> طلاق و خلع

    سوال نمبر: 2940

    عنوان:

    تین سال پہلے میری شادی ہوئی تھی۔میں کام کرنے کی غرض سے اپنی بیوی کو ممبئی چھوڑ کر سعودی عرب آگیاتھا۔ میں سالانہ چھٹیوں میں اس سے ملا کرتا تھا۔ حال ہی میں مجھے معلوم ہواکہ میرے بھانجے کے ساتھ میری بیوی کا جسمانی تعلق تھا۔ میں یہ جاننا چاہتاہوں کہ میں اب کیا کروں؟ کیا میں اسے طلاق دیدوں؟ براہ کرم، شریعت کی روشنی میں جواب دیں۔

    سوال:

    تین سال پہلے میری شادی ہوئی تھی۔میں کام کرنے کی غرض سے اپنی بیوی کو ممبئی چھوڑ کر سعودی عرب آگیاتھا۔ میں سالانہ چھٹیوں میں اس سے ملا کرتا تھا۔ حال ہی میں مجھے معلوم ہواکہ میرے بھانجے کے ساتھ میری بیوی کا جسمانی تعلق تھا۔ میں یہ جاننا چاہتاہوں کہ میں اب کیا کروں؟ کیا میں اسے طلاق دیدوں؟ براہ کرم، شریعت کی روشنی میں جواب دیں۔

    جواب نمبر: 294031-Aug-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 141/ ل= 141/ ل

     

    ایسی صورت میں طلاق دینا ضروری نہیں، آپ اپنی بیوی کو سمجھائیں کہ وہ اپنے اس حرکت سے باز آجائے نیز عملی اقدام یہ کریں کہ اپنے گھر میں غیرمحارم کے داخلہ پر پابندی لگادیں، اگر وہ توبہ کرتی ہے اور آپ کو اس پر یقین بھی ہوجائے تو پھر اس کو رکھ لینا ہی بہتر ہے۔

     

    نیز اپنے ساتھ اس کے رکھنے کا انتظام کریں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند