• معاشرت >> طلاق و خلع

    سوال نمبر: 2919

    عنوان:

    میری بیوی نے مجھ سے طلاق کا مطالبہ کیااور طلاق کے لیے کوئی مضبوط عذر بھی پیش نہیں کیا ، بس یہ کہہ دیاکہ مجھے تمہارے ساتھ نہیں رہنا ہے، اور مجھے اپنا حق مہر نہیں چاہئے ۔ میں معاف کرتی ہوں ، مجھے طلاق دے دو۔ اس کے والدین نے بھی مجھ پر دباؤ ڈالا کہ ہماری بیٹی کو طلاق دے دو ہمیں حق مہر نہیں چاہئے۔تم ہماری چیزوں ہمیں دے دو بس۔اور ایک اسٹمپ پیپر(مہر والا کاغذ ) تیار کیا جس میں یہ تھا کہ یہ طلاق بصورت خلع واقع ہو رہی ہے جس میں فلاں بنت فلاں اپنا حق مہر معاف کررہے ہیں اور فلاں بن فلاں اس کو طلاق دے رہے ہیں، کیا اس صورت میں خلع واقع ہوئے یا طلاق ؟اور حق مہر کا کیا حکم ہوگا؟ براہ کرم، جواب دیں۔

    سوال:

    میری بیوی نے مجھ سے طلاق کا مطالبہ کیااور طلاق کے لیے کوئی مضبوط عذر بھی پیش نہیں کیا ، بس یہ کہہ دیاکہ مجھے تمہارے ساتھ نہیں رہنا ہے، اور مجھے اپنا حق مہر نہیں چاہئے ۔ میں معاف کرتی ہوں ، مجھے طلاق دے دو۔ اس کے والدین نے بھی مجھ پر دباؤ ڈالا کہ ہماری بیٹی کو طلاق دے دو ہمیں حق مہر نہیں چاہئے۔تم ہماری چیزوں ہمیں دے دو بس۔اور ایک اسٹمپ پیپر(مہر والا کاغذ ) تیار کیا جس میں یہ تھا کہ یہ طلاق بصورت خلع واقع ہو رہی ہے جس میں فلاں بنت فلاں اپنا حق مہر معاف کررہے ہیں اور فلاں بن فلاں اس کو طلاق دے رہے ہیں، کیا اس صورت میں خلع واقع ہوئے یا طلاق ؟اور حق مہر کا کیا حکم ہوگا؟ براہ کرم، جواب دیں۔

    جواب نمبر: 291901-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 180/ د= 152/ د

     

    شوہر اور بیوی دونوں اس کو منظور کرکے دستخط کردیا ہے تو خلع مکمل ہوگیا اور بیوی پر طلاق بائنہ واقع ہوگئی۔ اورعورت کا حق مہر ساقط ہوگیا اب اس کو مطالبہ کا حق نہیں ہے۔ قال في الدر وبالطلاق علی مال طلاق بائن (شامي: ج۲ ص۶۰۸)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند