• معاشرت >> طلاق و خلع

    سوال نمبر: 2303

    عنوان: اگر کسی آدمی نے جان سے ماردینے کی دھمکی سے ڈر کر اپنی بیوی کو طلاق دے دی تو کیا طلاق واقع ہوجائے گی۔ اور ایسی طلاق کے متعلق امام ابوحنیفہ کا کیا جواب ہے؟ براہ مہربانی تفصیل سے جواب دیں۔

    سوال:

    اگر کسی آدمی نے جان سے ماردینے کی دھمکی سے ڈر کر اپنی بیوی کو طلاق دے دی تو کیا طلاق واقع ہوجائے گی۔ اور ایسی طلاق کے متعلق امام ابوحنیفہ کا کیا جواب ہے؟ براہ مہربانی تفصیل سے جواب دیں۔

    جواب نمبر: 230331-Aug-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 590/ م= 586/ م

     

    ایسی حالت میں اگر زبانی طلاق دے گا تو واقع ہوجائے گی اس لیے کہ حالت اکراہ میں زبانی طلاق واقع ہوجاتی ہے، امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ ایسی طلاق کو واقع مانتے ہیں: کما فی الدر المختار: ویقع طلاق کل زوج بالغ عاقل ولو عبداً أو مکرھا فإن طلاقہ صحیحÂ…  وفي رد المحتار: وفي البحر أن المراد الإکراہ علی التلفظ بالطلاق (شامي زکریا: ۴/۴۳۸، ۴۴۰)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند