• معاشرت >> طلاق و خلع

    سوال نمبر: 1646

    عنوان:

    میں جانناچا ہتا ہوں کہ میرے بھائی نے اپنی حاملہ بیوی کوکہا کہ اگرمیں آئندہ تمہا رے پاس آوٴں (تمہارے ساتھ مجامعت کروں)تو تم پر تین طلاق تو: (۱لف) کیااس کے اپنی بیو ی کے ساتھ صحبت کرنے پرتینوں طلاق واقع ہونگے؟ (ب) اگر اس کی بیوی جنسی خواہش کی تکمیل کی غرض سے اپنے شو ہرکو بتائے بغیراس کے پاس آئی تو؟ (ج) اوراگرمیاں بیوی دونوں اپنا حنفی مسلک بدل کر شافعی یا حنبلی مسلک اختیار کرلیں تو؟ براہ کرم،فتوی دیں۔

    سوال: میں جانناچا ہتا ہوں کہ میرے بھائی نے اپنی حاملہ بیوی کوکہا کہ اگرمیں آئندہ تمہا رے پاس آوٴں (تمہارے ساتھ مجامعت کروں)تو تم پر تین طلاق تو: (۱لف) کیااس کے اپنی بیو ی کے ساتھ صحبت کرنے پرتینوں طلاق واقع ہونگے؟ (ب) اگر اس کی بیوی جنسی خواہش کی تکمیل کی غرض سے اپنے شو ہرکو بتائے بغیراس کے پاس آئی تو؟ (ج) اوراگرمیاں بیوی دونوں اپنا حنفی مسلک بدل کر شافعی یا حنبلی مسلک اختیار کرلیں تو؟ براہ کرم،فتوی دیں۔

    جواب نمبر: 1646

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 452/ ل= 452/ ل

     

    ہردو صورت میں اگر شوہر نے اس سے وطی کی تو اس پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر مغلظہ ہوجائیں گی و تنحل الیمین بعد وجود الشرط مطلقا (الدر المختار مع الشامي: ج۴ ص۶۰۹، ط زکریا دیوبند) شافعی یا حنبلی مسلک اختیار کرنے سے بھی تینوں طلاقیں واقع ہوجائیں گی وقد ثبت النقل عن أکثرھم صریحًا بإیقاع الثلاث ولم یظھر لھم مخالف فما ذا بعد الحق إلا الضلال (شامي: ج۴ ص۴۳۵، ط زکریا دیوبند)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند