• معاشرت >> طلاق و خلع

    سوال نمبر: 161383

    عنوان: طلاق كا وسوسہ آنے كے وقت اگر زبان ہل جائے تو كیا حكم ہے؟

    سوال: بار بار طلاق کے وسوسہ آنے سے اگر زبان ہل جائے تو طلاق ہو جا تی ہے یا نہیں؟

    جواب نمبر: 16138301-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:911-788/D=9/1439

    اس طرح زبان ہلنے اور دل میں وساوس آنے سے طلاق نہیں پڑتی جب وساوس پیدا ہوں تو دماغ کسی دورسے کام میں لگالیں اور وسوسہ کی طرف سے ذہن ہٹالیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند