• معاشرت >> طلاق و خلع

    سوال نمبر: 157028

    عنوان: میری طرف سے تم فارغ ہو

    سوال: میرا سوال یہ ہے کہ میں نے اپنی بیوی کو میکے جانے پر طلاق نکالی تھی کہ میری اجازت کے بنا گئی تو طلاق ہے ۔پھر ایک دن ہمارا جھگڑا ہوا میں نے فون پر اس کے ماموں کے بیٹے کو کہا کہ میری طرف سے فارغ ہے چاہے میکے جائے یا جہاں بھی جائے ۔لیکن میں نے یہ الفاظ طلاق کی نیت سے نہیں کہے اجازت دینے کی نیت سے کہے ۔آیا ان الفاظ سے طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟

    جواب نمبر: 15702801-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:363-364/L=4/1439

    آپ کا پہلا جملہ تعلیق طلاق سے متعلق ہے ، یہ جملہ اگر آپ نے بغیر کسی قید کے کبھی بھی میکے جانے کی صورت میں کہا تھا تو میکہ جانے کی صورت میں ایک طلاقِ رجعی بیوی پر واقع ہوجائے گی، جس میں تاوقتِ عدت آپ کو رجعت کا اختیار حاصل ہوگا، اور دوسرا جملہ جو آپ نے بیوی کے ماموں کے بیٹے کو کہا تھا اگر آپ نے اس سے طلاق کی نیت نہیں کی تھی تو اس جملے سے کوئی طلاق بیوی پر واقع نہیں ہوئی۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند