• عبادات >> طہارت

    سوال نمبر: 177938

    عنوان: شہوت كے وقت عضو دبانے سے سكون ہوجائے مگر انزال نہ ہو تو غسل واجب ہوگا یا نہیں؟

    سوال: حضرت اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب ذہن میں کوئی خیال آتا ہے اور شہوت ہوتی ہے تو الٹا لیٹ کر خاص عضو کو دبانے سے کبھی انزال ہو جاتا ہے کبھی اس وقت نہیں ہوتا لیکن شہوت کا غلبہ ختم ہو جاتا ہے میں پوچھنا یہ چاہ رہا ہوں کہ کیا یہ عمل صحیح ہے یا نہیں؟ مزید یہ کہ اگر اسی وقت انزال نہ بھی ہو تو بھی عجیب سی الجھن رہتی ہے اور جب تک غسل نہ کر لو الجھن ہی رہتی ہے کیا اس صورت میں غسل ضروری ہے ؟

    جواب نمبر: 17793801-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:818-648/L=9/1441

    مذکورہ بالا صور ت میں الٹا لیٹ کر عضو کو دبانا جس سے انزال بھی بسا اوقات ہوجاتا ہے جائز نہیں؛اس لیے آپ پر اس سے احتراز لازم ہے ؛تاہم جب تک انزال نہ ہوجائے غسل واجب نہیں ہوگا۔

    إلا علی أزواجہم، أو ما ملکت أیمانہم-: تحریم ما سوی الأزواج وما ملکت الأیمان.وبین: أن الأزواج وملک الیمین: من الآدمیات دون البہائم․ ثم أکدہا، فقال: (فمن ابتغی وراء ذلک: فأولئک ہم العادون) فلا یحل العمل بالذکر، إلا: فی زوجة ، أو فی ملک الیمین ․ ولا یحل الاستمناء․ واللہ أعلم.[أحکام القرآن للشافعی - جمع البیہقی 1/195،الناشر : مکتبة الخانجی - القاہرة)إذا احتلم الرجل وانفصل المنی من موضعہ إلا أنہ لم یظہر علی رأس الإحلیل لا یلزمہ الغسل․ کذا فی فتاوی قاضی خان.[الفتاوی الہندیة 1/ 14) (وفرض) الغسل (عند) خروج (منی) من العضو وإلا فلا یفرض اتفاقا؛ لأنہ فی حکم الباطن.( الدر المختار) وفی ردالمحتار: (قولہ: من العضو) ہو ذکر الرجل وفرج المرأة الداخل احترازا عن خروجہ من مقرہ ولم یخرج من العضو بأن بقی فی قصبة الذکر أو الفرج الداخل، أما لو خرج من جرح فی الخصیة بعد انفصالہ عن مقرہ بشہوة فالظاہر افتراض الغسل․ ولیراجع.[الدر المختار وحاشیة ابن عابدین (رد المحتار) 1/ 159)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند