• عبادات >> طہارت

    سوال نمبر: 177361

    عنوان: غسل فرض کب ہوگا؟

    سوال: امید ہے کہ آپ لوگ بخیر عافیت ہیں ہم سب کو یہ تو معلوم ہے کے احتلام سے غسل فرض ہوتا ہے لیکن مجھے یہ معلوم کرنا ہے کہ اگر رات کو اگر احتلام ہوجاے اور صبح یاد نہیں ہے کے احتلام ہوا تھا یا نہیں تو کیا اب غسل فرض ہوگا ؟ نیز یہ بھی بتائیں کہ اگر احتلام ہوا لیکن جوش کے ساتھ نہیں ہوا تم کیا غسل فرض ہوگا ؟ براے مہربانی جلدی جواب دیں اللہ ۔ جزاک اللہ خیرا

    جواب نمبر: 17736101-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 717-535/L=07/1441

    احتلام سے غسل واجب ہونے کے لئے انزال شرط ہے، اگر انزال نہ ہو تو غسل واجب نہیں، اور اگر سونے کی حالت میں انزال ہو تو احتلام جوش کے ساتھ ہو یا نہ ہو بہرصورت غسل واجب ہے۔ في الفتاوی الہندیة: ولو تذکر الاحتلام ولذة الإنزال ولم یر بللا لا یجب علیہ الغسل والمرأة کذلک في ظاہر الروایة؛ لأن خروج منیہا إلی فرجہا الخارج شرط لوجوب الغسل علیہا وعلیہ الفتوی․  ہکذا فی معراج الدرایة․  (الفتاوی الہندیة: ۱/۱۱۵) وفي الاختیار: قال: (ومن استیقظ فوجد فی ثیابہ منیا أو مذیا فعلیہ الغسل) أما المني فلقولہ - علیہ الصلاة والسلام -: ”من ذکر حلما ولم بللا فلا غسل علیہ، ومن رأی بللا ولم یذکر حلما فعلیہ الغسل“․  وأما المذی ففیہ خلاف أبي یوسف؛ لأن المذي لا یوجب الغسل کما فی حالة الیقظة․  ولنا أن الظاہر أنہ مني قد رق فیجب الغسل احتیاطا․  (الاختیار لتعلیل المختار: ۱/۱۲)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند