• عبادات >> طہارت

    سوال نمبر: 177352

    عنوان: کیا باہر کی نجاست جسم پر لگنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟

    سوال: کیا باہری نجاست بدن پر لگنے سے وضوٹوٹ جاے گا. مثال کے طور پر ناپاک پانی کا چھینٹا بدن پر لگ جاے یا بچے کا ڈایپر بدلتے وقت نجاست ہاتھ میں لگ جاے.

    جواب نمبر: 17735201-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:615-498/N=8/1441

     

    اگر کسی باوضو شخص کے جسم پر باہر سے آکر کوئی نجاست لگ جائے تو اس سے اُس کا وضو نہیں ٹوٹے گا؛ کیوں کہ اگلی، پچھلی شرمگاہ سے کچھ نکلنے یا جسم کے کسی بھی حصے سے ناپاک چیز خارج ہونے یا سونے وغیرہ سے وضو ٹوٹتا ہے، باہر کی ناپاکی جسم پر لگ جانے سے وضو نہیں ٹوٹتا؛ البتہ جسم کا وہ حصہ ناپاک ہوجائے گا اور نماز کے لیے صرف اُس حصے کا دھونا کافی ہوگا۔

    مستفاد:والکلام الفاحش لا ینقض الوضوء وإن کان في الصلاة؛ لأن الحدث اسم لخارج نجس، ولم یوجد ھذا الحدث في الکلام الفاحش (المحیط البرہاني، کتاب الطھارات، الفصل الثاني في ما یوجب الوضوء، ۱: ۲۱۶، ت: نعیم أشرف، ط: باکستان)۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند