• عبادات >> صوم (روزہ )

    سوال نمبر: 177233

    عنوان: سفرا وغیرہ کے لیے سحری وغیرہ کے انتظام میں اگر کوئی شخص تعاون کرے تو اس کا تعاون قبول کرنے کا حکم

    سوال: کیا فرماتے ہیں حضرات مفتیان کرام مندرجہ ذیل مسئلے کے سلسلے میں کہ میں ہر سال رمضان کے مہینے میں باہر سے آنے والے سفرائے کرام مسافروں اور غریبوں کیلئے سحری اور دواء وغیرہ کا مفت انتظام کرتا ہوں اس میں کچھ لوگوں نے رقم دے کر امداد کر نے کی کوشش کی لیکن میں نے وہ رقم یہ کہ کر واپس کر دیا کہ نہیں معلوم رقم کیسا ہے صدقہ یا زکوٰة یا کسی اور طرح کا ہے اب دریافت طلب مسئلہ یہ ہے کہ کیا کوء شخص اگر اس طرح کے فلاحی کاموں میں امداد یا صدقہ کرنا چاہے تو اس رقم کو لیکر کھانا کھلانے یا پھر شامیانہ اور ہوٹل کا کرایہ دینے میں لگا سکتے ہیں یا نہیں؟ امید کہ قرآن وحدیث کی روشنی میں تفصیلی جواب دیکر عند اللہ ماجور وعند الناس مشکور ہوں گے۔ المستفتی حاجی محمد ابراھیم (ہڈا ولے)وجے واڑہ آندھرا پردیش

    جواب نمبر: 17723301-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:589-473/N=7/1441

    آپ ہر سال رمضان میں باہر سے آنے والے سفرائے کرام، مسافر حضرات اور غربا ومساکین کے لیے مفت سحری اور دوائی وغیرہ کا جو انتظام کرتے ہیں اور اس کے لیے باقاعدہ شامیانہ وغیرہ لگواتے ہیں، اگر کوئی شخص اس مد میں آپ کو عطیہ وامداد کا پیسہ دے تو آپ وہ قبول کرسکتے ہیں اور مذکورہ بالا مد میں خرچ کرسکتے ہیں۔ اور اگر کوئی زکوة، فطرہ یا نذر ومنت وغیرہ، یعنی: صدقہ واجبہ کا پیسہ دے تو آپ معذرت کردیں؛ کیوں کہ سفرا اور مسافرین میں کون مستحق زکوة ہے اور کون نہیں؟ یہ ایک مشکل کام ہے اور ہر ایک سے پوچھنا کچھ اچھا نہیں۔اسی طرح نفلی صدقہ بھی نہ لیاجائے؛ کیوں کہ صدقہ در اصل فقرا کے لیے ہوتا ہے، اغنیا کے لیے ہدیہ ہوتا ہے۔ اور بہ طور مشورہ عرض ہے کہ اگر آپ کے فلاحی کام کا دائرہ وسیع ہورہا ہو اور لوگ اس کے لیے چندہ بھی دینا چاہتے ہیں تو آپ انتظام میں اپنے ساتھ دو، تین مقامی حضرات کو شامل کرلیں اور چندے کی آمد وخرچ کا حساب سب کے علم میں رہے؛ تاکہ کل کوئی شخص آپ پر انگلی نہ اٹھاسکے ۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند