• عبادات >> صوم (روزہ )

    سوال نمبر: 1522

    عنوان:

    میں دس ماہ کے بچے کی ماں ہوں۔ گذشتہ سال پیدائش کے بعد رمضان شروع ہوگیا اور میں پورے ماہ کا روزہ نہ رکھ سکی۔ اب دوسرا رمضان آنے والا ہے اور ابھی بھی بچے کو دودھ پلارہی ہوں، چناں چہ ابھی تک گذشتہ رمضان کا روزہ قضا نہیں کرسکی۔ میں اس کا کفارہ کیسے ادا کروں؟ از راہ کرم سہل ترین امر کی طرف رہنمائی فرمائیں۔

    سوال:

    میں دس ماہ کے بچے کی ماں ہوں۔ گذشتہ سال پیدائش کے بعد رمضان شروع ہوگیا اور میں پورے ماہ کا روزہ نہ رکھ سکی۔ اب دوسرا رمضان آنے والا ہے اور ابھی بھی بچے کو دودھ پلارہی ہوں، چناں چہ ابھی تک گذشتہ رمضان کا روزہ قضا نہیں کرسکی۔ میں اس کا کفارہ کیسے ادا کروں؟ از راہ کرم سہل ترین امر کی طرف رہنمائی فرمائیں۔

    جواب نمبر: 152201-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 613/ ن= 609/ ن

     

    آپ پر گذشتہ رمضان کے روزوں کی قضا ہی واجب ہے، جب بھی آپ کو قضا پر قدرت ہو اور روزے رکھنے کی وجہ اپنے لیے یا بچہ کے لیی کوئی خطرہ نہ ہو أو الحامل أو مرض أما کانت أو ظئرا علی الظاہر خافت بغلبة الظن علی نفسھا أو ولدھا? الفطر یوم العذر. وقضوا لزوما ما قدروا بلا فدیة وبلا ولاء (در مختار: ج۳ ص۴۰۳ ط: زکریا دیوبند) آپ ان روزوں کا کوئی فدیہ وغیرہ نہیں دے سکتی ہیں، اور فدیہ روزوں کی طرف سے کافی نہ ہوگا۔ لیکن اگر  آپ اس سال رمضان آنے سے پہلے پہلے گزشتہ رمضان کے روزوں کی قضا نہ کرسکیں تو پہلے آپ (اگر کوئی خطرہ نہ ہو تو) اس سال کے ادا روزے رکھیں، بعد میں گذشتہ رمضان کے روزوں کی قضا کریں: ولو جاء رمضان الثاني قدم الأداء علی القضاء ولا فدیة (در مختار: ج۳ ص۴۰۵/ ط: زکریا دیوبند)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند