عبادات - صوم (روزہ )

India

سوال # 151697

علمائے دیوبند ۱۵شعبان کا روزہ ضروری سمجھ کر کیا یہ بدعت ہے یا نہیں ًکیونکہ میں نے علمائے کرام سے سنا ہے کہ ہر مہینے میں تین دن نفلی روزہ رکھنا مستحب ہے لیکن /۹۵ آدمی مہینے کے تین روزہ نہیں رکھتے ہیں ۱۵ شعبان کا روزہ بڑی پابندی سے رکھتا ہے ،,تو شعبان کے روزے کو ضروری سمجھ کر ہی رکھا , برائے مہربانی صحیح حدیث کی روشنی جواب ارسال فرمائیں آپ کی عین نوازش ہوگی۔

Published on: Jun 15, 2017

جواب # 151697

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa: 1107-1088/M=9/1438



پندرہویں شعبان کا روزہ محض نفل اور مستحب ہے، اگر رکھے تو ثواب ہے نہ رکھے تو کوئی گناہ نہیں، یہی حکم ہرمہینے کے تین روزوں کا ہے، اگر کوئی شخص صرف پندرہویں شعبان کا روزہ پابندی سے رکھتا ہے اور ماہانہ نفلی روزے نہیں رکھتا تو محض اتنی بات کی وجہ سے اس کو بدعت نہیں کہا جائے گا، ہاں اگر نصف شعبان کے روزے کو لازم وضروری سمجھے اور نہ رکھنے کو گناہ تصور کرے اور ترک کرنے والے کو برا بھلا کہے تو یہ التزام وخیال غلط ہے، مستحب کام پر واجب کی طرح اصرار نہیں ہونا چاہیے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات