• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 177993

    عنوان: صرف میاں بیوی کی نماز باجماعت کا طریقہ

    سوال: ابھی جو حال ہے ، کرونا وائر س کی وجہ سے سب مسجدوں میں نماز نہیں ادا کرسکتے تو اس حال میں میاں بیوی اگر گھر میں اکیلے ہیں تو کیا وہ گھر میں باجماعت نماز پڑھ سکتے ہیں؟ گھر میں دو بچے ہیں، ایک چار سال اور دوسرا ڈیڑھ سال کا،اور کیا طریقہ ہوگا نماز کا؟

    جواب نمبر: 17799301-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:695-525/N=8/1441

    (۱): جی ہاں! ملک کی موجودہ صورت حال میں اگر گھر میں صرف میاں بیوی ہوں تو دونوں باجماعت نماز پڑھ سکتے ہیں؛ بلکہ مرد کو جماعت کی فضیلت کے لیے بیوی کے ساتھ نماز باجماعت ہی پڑھنی چاہیے۔ اور دونوں کی جماعت کا طریقہ یہ ہوگا کہ بیوی، شوہر کے بالکل پیچھے کھڑی ہوگی، دائیں یا بائیں نہیں کھڑے ہوگی۔

    وسیأتي فی الإمامة أن الأصح أنہ لو جمع بأھلہ لا یکرہ وینال فضیلة الجماعة؛ لکن جماعة المسجد أفضل ( رد المحتار، کتاب الصلاة، باب الأذان، ۲: ۶۵، ط: مکتبة زکریا دیوبند، ۲: ۶۱۹، ت: الفرفور، ط: دمشق)، حتی لو صلی في بیتہ بزوجتہ أو جاریتہ …فقد أتی بفضیلة الجماعة اھ، کذا فی الشرح؛ ولکن فضیلة المسجد أ تم (حاشیة الطحطاوي علی المراقي، کتاب الصلاة، أول باب الإمامة، ص: ۲۸۷، ط: دار الکتب العلمیة بیروت)، أما الواحدة فتتأخر (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الصلاة، باب الإمامة، ۲: ۳۰۷، ط: مکتبة زکریا دیوبند، ۳: ۵۵۱، ت: الفرفور، ط: دمشق)۔

    (۲): اگر گھر میں میاں، بیوی کے ساتھ ۲/ بچے ہوں، ایک:۴/ سالہ اور دوسرا ڈیڑھ سالہ تو چوں کہ ڈھیر سالہ بچہ بہت چھوٹا ہے اور ۴/ سالہ اگرچہ کچھ بڑا ہے؛ لیکن وہ بھی ناسمجھ ہے؛ اس لیے دونوں میاں، بیوی نمبر ایک میں ذکر کردہ طریقے کے مطابق جماعت کرلیں۔ بچوں کو جماعت میں شریک کرنے کی ضرورت نہیں۔

    (ویقف الواحد)رجلاً کان أو صبیاً ممیزاً الخ (مراقي الفلاح مع حاشیة الطحطاوي، کتاب الصلاة، ص: ۳۰۵، ط: دار الکتب العلمیة بیروت) ۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند