• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 177960

    عنوان: اگر کسی شخص نے بینک سے سودی لون لیا ہے تو کیا وہ نماز پڑھا سکتاہے؟

    سوال: اگر کسی شخص نے بینک سے سودی لون لیا ہے تو کیا وہ نماز پڑھا سکتاہے؟

    جواب نمبر: 17796001-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:816-639/L=9/1441

    بلاضرورت سودی قرض لینا جائز نہیں ،قرآن واحادیث میں اس پر سخت وعید آئی ہے ؛اس لیے اگر امام نے واقعتاً بلاضرورت سودی لون لیا ہے تو ایسی صورت میں اس کی اقتداء میں نماز مکروہ ہوگی ؛البتہ بسااوقات سودی لون لیے بغیر چارہ نہیں ہوتا اور کچھ شکلوں میں علماء نے بھی ضرورتاً اس کی گنجائش دی ہے ایسی مجبوری میں سودی لون لینے کی گنجائش ہے اور اس کی وجہ سے امامت کی کراہت کا بھی حکم عائد نہ ہوگا ۔بہتر یہ تھا کہ سوال سے پہلے اس کی تحقیق کرلی جاتی کہ امام نے سودی قرض کس بناپر لیا ہے ؟ اوراس کے بعد سوال کیا جاتا۔

    قال تعالیٰ: ((وَأَحَلَّ اللَّہُ الْبَیْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا)) (البقرة: 275) وعن جابر، قال: لعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آکل الربا، ومؤکلہ، وکاتبہ، وشاہدیہ ، وقال: ہم سواء (الصحیح لمسلم ، باب لعن آکل الربا ومؤکلہ،رقم:106) وفی القنیة والبغیة: یجوز للمحتاج الاستقراض بالربح (انتہی)․ (الأشباہ والنظائر لابن نجیم ص: 79)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند