• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 177958

    عنوان: نفل پڑھنے والے كی امامت فرض كی نیت سے كرنا؟

    سوال: میں نے تکبیر اولی کی موت تک۔کی نیت کی ہے اور 60 دن ہو گے اللہ کی توفیق سے ۔ کسی وجہ سے میں آج مغرب کی جماعت میں اول شریک نہ ہو سکا۔ اب اگر میں جماعت سے گھر میں نماز پڑھنا چاہ رہا ہوں اور مقتدی پہلے سے ہی فرض پڑھ چکا ہے اور نفل کی نیت سے میری امامت میں نماز پڑہتا ہے تو کیا میری فرض نماز کی جماعت ایسے مقتدی کے ساتھ قبول ہوگی؟ آئندہ ایسی صورتحال میں کیسے جماعت کرائی جاے َ؟ آپ کے جواب کا منتظر ہوں۔ جزاکم اللہ

    جواب نمبر: 17795801-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 736-607/D=08/1441

    ”موت تک تکبیر اولیٰ کی نیت کی“ اس کا مطلب اگر یہ ہے کہ میں نے نیت کی تھی کہ تمام نمازیں تکبیر اولیٰ کے ساتھ پڑھوں گا تو محض نیت کرنے یہ منت (نذر) نہیں ہوئی جس کا پورا کرنا آپ پر واجب ہو پس کبھی فوت ہو جانے سے کچھ اور واجب نہ ہوگا یہ ایک اچھے ارادہ اور عمدہ عمل کا عزم ہے حتی الامکان اس کے پورا کرنے کی کوشش کریں بس اتنا ہی کافی ہے چنانچہ کسی دوسرے شخص کے ساتھ مل کر جس نے نفل کی نیت کی تھی آپ نے فرض کی نیت سے نماز پڑھا دی تو آپ کو جماعت کا ثواب مل گیا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند